آئیڈیا لوجی نہ کہ تلوار
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۳۵
مطالعۂ حدیث شرح مشکوۃ المصابیح (حدیث نمبر 151-146)
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور لوگوں کو اس کی ترغیب دی۔ مگر کچھ لوگوں نے اس کام سے پرہیز کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے خطبہ دیا۔ آپ نے اللہ کی حمد وثنابیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس چیز سے پرہیز کرتے ہیں جو میں خود کرتا ہوں۔ خدا کی قسم میں اللہ کو ان سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں ۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 6101؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2356)
تشریح: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی رہنمائی کے لیے ایک اعلیٰ نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی بھی زمانے میں اہل ایمان کے لیے کوئی دوسرا معیار اختیار کرنا درست نہیں۔ موجودہ مسلمانوں کے ریفرنس میں یہ بات غور کرنے کی ہے کہ "بطور عقیدہ ہم مانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لیے نمونہ ہیں۔ مگر جب مسلم ملت کے مسائل پر بات ہوتی ہے تو ہر آدمی خود اپنی عقل سے بولنا شروع کر دیتا ہے۔ کوئی ایسا نہیں کرتا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام اور آپ کی سیرت میں اس کا جواب تلاش کرے۔ حالانکہ ایسی روش ہمارے ایمان کے مطابق نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح دو رِ اول کے لیے نمونہ تھے، اسی طرح عصرِ حاضر میں بھی آپ کی زندگی میں ہمارے لیے کامل رہنمائی موجود ہے۔ " (دیکھیے، اسفار ہند، صفحہ 66-65)
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے اور وہاں لوگ کھجور کے درختوں میں تأبیر کا عمل کر رہے تھے۔ آپ نے پوچھا کہ تم لوگ یہ کیا کر رہے ہو۔ انھوں نے کہا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues