آئیڈیا لوجی نہ کہ تلوار
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۳۶
کہ ہم اس کی تأبیر (pollination) کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید تمھارے لیے بہتر ہو۔ پس لوگوں نے اس عمل کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد پھل کم آئے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس کا ذکر آپ سے کیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں ایک انسان ہوں۔ جب میں تم کو تمھارے دین کے بارے میں کوئی حکم دوں تو تم اس کو لے لو۔ اور جب میں اپنی رائے سے کوئی حکم دوں تو میں ایک انسان ہوں۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2362)
تشریح: صحیح مسلم کی ایک اور روایت (حدیث نمبر 2363) میں یہ الفاظ ہیں: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (تم اپنی دنیا کے بارے میں زیادہ جانتے ہو)۔ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق مکہ سے تھا جہاں اس وقت کھجور کے درخت نہیں ہوتے تھے۔ آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہاں کھجور کے باغات تھے اور قاعدے کے مطابق وہاں کے لوگ ان کو زرخیز کرنے کے لیے اپنے ہاتھ سے تأبیر (pollination) کا عمل کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ غیر مانوس چیز تھی ۔ چنانچہ آپ نے اس سے منع فرمايا۔ یہ بات اصول باغبانی کے خلاف تھی۔ اس لیے پیداوار میں کمی ہو گئی۔ تأبیر کا معاملہ ایک سیکولر شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی طرح ٹکنالوجی یا سائنس کی دوسری دریافتیں بھی سیکولر شعبے سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں سائنٹفک ریسرچ کا لحاظ کیا جائے گا۔
”تم اپنی دنیا کے بارے میں زیادہ جانتے ہو“ کا مطلب یہ ہے کہ ایک پیغمبر اللہ کی ہدایت کو بتانے کے لیے آتا ہے ۔ باغبانی اور زراعت اور انجينئرنگ جیسے موضوعات کی تعلیم کے لیے نہیں آتا۔ پیغمبر اسلام کے بعد اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زندگی کی نجات کا طریقہ خدا کے کلام اور میری سنت سے معلوم کرو اور مادی علوم کو اپنے تجربات ومشاہدات اور سائنٹفک ریسرچ کے تابع رکھو۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال اور مجھ کو جو (ہدایت) دے کر اللہ نے بھیجا ہے اس کی مثال اس آدمی کی مانند ہے جو ایک قوم کے پاس آیا۔ اور کہا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues