آئیڈیا لوجی نہ کہ تلوار
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۳۷
کہ اے میری قوم کے لوگو، میں نے ایک لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اور (اس خطرہ کے بارے) میں کھلا وارننگ دینے والا ہوں۔ پس تم لوگ اپنی حفاظت کرو، خود اپنی حفاظت کرو۔ چنانچہ قوم کے کچھ لوگوں نے اس کی بات پر یقین کیا۔ وہ اندھیرے میں گھروں سے نکل کر (محفوظ جگہوں پر) چلے گئے ۔ پس انھوں نے اپنے آپ کو بچالیا۔ لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے اس کو جھٹلایا۔ اور اپنے گھروں میں ٹھہرے رہے ۔ چنانچہ صبح صبح دشمن کے لشکر نے ان پر حملہ کر دیا اور انھیں ہلاک کر کے ان کو نیست و نابود کر دیا۔ یہی مثال ہے اس کی جس نے میری بات مان کر میری لائی ہوئی شریعت کی پیروی کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اور میری لائی ہوئی شریعت کا انکار کیا۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 7283 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2283)
تشریح: اس حدیث میں زندگی کی حقیقت کو ایک مثال کے ذریعے بتایا گیا ہے۔ ہر انسان جو زندہ ہے وہ ایک دن مرنے والا ہے اور اس کے بعد اس کو اپنے رب کے سامنے حساب وکتاب کے لیے کھڑا ہونا ہے۔ یہ ایک انتہائی سنگین خطرہ ہے جس سے ہر انسان دو چار ہے۔ پیغمبر اسی لیے آتا ہے کہ وہ اس سنگین خطرہ سے انسان کو آگاہ کرے ۔ پیغمبر اسلام کے بعد امت مسلمہ کی بھی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ نسل در نسل ہر زمانے کے لوگوں کو اس سنگین مسئلہ سے آگاہ کرتی رہے۔ اس ذمہ داری کی انجام دہی کے بغیر مسلمانوں کا امت محمدی ہونا مشتبہ ہے۔ اسی عمل کا نام دعوت الی اللہ ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال اس شخص کی مانند ہے جس نے آگ جلائی ۔ جب آگ نے اپنے ارد گرد کا ماحول روشن کر دیا۔ تو پروانے اور پتنگے جو آگ میں گرا کرتے ہیں، اس میں گرنے لگے۔ اور وہ ان کو روکنے لگا۔ مگر وہ اس پر غالب آرہے ہیں اور آگ میں گرتے جارہے ہیں۔ اسی طرح میں تم لوگوں کی کمر پکڑ کر تم کو آگ میں گرنے سے روک رہا ہوں ۔ اور تم لوگ اس میں گرتے جارہے ہو۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔ اور مسلم نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ مگر اس کے آخر میں آپ نے فرمایا: میری اور تمھاری مثال ایسی ہے کہ میں تمھیں کمر سے پکڑ کر
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues