Al-Risala · July 2024 · page 38

آئیڈیا لوجی نہ کہ تلوار

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۳۸

آگ سے بچارہا ہوں۔ آگ سے نکل آؤ۔ مگر تم مجھ پر غالب آئے جاتے ہو اور اس میں گرتے جارہے ہو۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 6483؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2284) تشریح: دنیا کی رونقیں اور لذتیں امتحان کے لیے ہیں۔ دعوت اصلاً ایک نظریاتی جدوجہد (ideological struggle) ہے۔ دعوت کا اصل نشانہ فریق ثانی کی سوچ کو بدلنا ہوتا ہے۔ پیغمبر یا پیغمبر کی نیابت میں داعی لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دنیا کے فریب سے اپنے آپ کو بچاؤ اور آخرت کی تیاری کرو۔ یعنی خالق کے بتائے ہوئے تخلیقی نقشہ کے مطابق زندگی گزارو۔ کامیاب وہ ہے جو اس سے متنبہ ہو کر آخرت کے لیے عمل کرے اور ناکام وہ ہے جو اس انتباہ کو نظر انداز کر کے صرف دنیا میں مشغول رہے۔

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جس ہدایت اور عمل کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بڑی بارش جیسی ہے جو زمین پر برسے۔ پھر زمین کا جو حصہ زرخیز تھا اس نے بارش کا پانی قبول کر لیا اور پھر اس نے گھاس اور ہرا چارہ خوب اگایا اور زمین کا جو حصہ بنجر تھا اس نے بارش کا پانی روک لیا جس سے اللہ نے لوگوں کو نفع پہنچایا۔ پھر وہ پانی ان کے پینے اور ان کی کھیتی کے کام آیا۔ اور زمین کا ایک حصہ ڈھلوان تھا۔ پس اس نے نہ تو پانی کوروکا اور نہ اس نے گھاس اور چارہ اگایا۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اس کو اس چیز سے نفع پہنچا جس کو لے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔ پھر اس نے اس کو جانا اور اس نے اس کی تعلیم دی اور (دوسری) مثال اس شخص کی بھی ہے جس نے اس کی طرف دیکھنے کے لیے سر نہیں اٹھایا اور اللہ کی اس ہدایت کو قبول نہیں کیا جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 79؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2282)

تشریح: اس حدیث میں تشبیہ کی زبان میں فطرت کے اس قانون کو بتایا گیا ہے جس کو فیض بقدر استعداد کہا جاتا ہے۔ زمین کو بارش کا فائدہ اس کی زرخیزی کے بقدر ملتا ہے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ خدا کی ہدایت تمام انسانوں کے لیے عام ہے۔ پیغمبر یا پیغمبر کی نیابت میں داعی کے ذریعہ جب

‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues

Printed page