Al-Risala · July 2024 · page 39

آئیڈیا لوجی نہ کہ تلوار

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۳۹

حق کا اعلان کیا جاتا ہے تو اگر چہ یہ اعلان تمام انسانوں تک پہنچتا ہے مگر اس کا فائدہ ہر ایک کو اس کی اپنی صلاحیت قبولیت کے بقدر ملتا ہے۔ مگر جو شخص جتنی استعداد کا ثبوت دے گا اتناہی فائدہ اس کو حاصل ہوگا۔ اور سب سے بڑا فائدہ جو ہدایت الہی سے ملتا ہے، وہ معرفت ربانی ہے۔

ہر عورت اور مرد کے اندر سچائی کو پانے کا جذبہ چھپا ہوا ہے، سچائی ہر ایک کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ مگر انسان اس دنیا میں افکار کے جنگل کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ اس بنا پر انسان کے اندر سچائی کو اختیار کرنے کا عمل (process) درست طور پر جاری نہیں ہو پاتا۔ ضرورت ہے کہ وہ اپنے اندر وہ فکری استعداد پیدا کرے جس کے ذریعے وہ حق اور غیر حق کے فرق کو جانے۔ وہ ناحق کو چھوڑتے ہوئے حق پر اپنی نظر جمائے رکھے۔ یہی وہ طریقہ ہے جو کسی انسان کے لیے سچائی سے فائدہ اٹھانے کا ضامن ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن (سورہ آل عمران) کی یہ آیات پڑھیں: وہی ہے جس نے تمھارے اوپر کتاب اتاری۔ اس میں بعض آیتیں محکم ہیں، وہ کتاب کی اصل ہیں۔ اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ پس جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں فتنہ کی تلاش میں۔ حالاں کہ ان کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ پختہ علم والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے۔ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (3:7)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو قرآن کی آیات متشابہات کے پیچھے پڑ گئے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے اس آیت میں ذکر کیا ہے۔ پس تم ان سے بچو۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 4547؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2665)

تشریح: دین کی جن باتوں کا تعلق ہماری معلوم دنیا سے ہے، ان کو قرآن میں محکم یا صراحت کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ اپنے براہ راست اسلوب کی بنا پر سمجھنے والے کے لیے بالکل واضح ہیں۔ اور جن باتوں کا تعلق نامعلوم دنیا سے ہے ان کو متشابہ یا تمثیل کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً

‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues

Printed page