آئیڈیا لوجی نہ کہ تلوار
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۴۰
اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ (2:229)۔ یعنی، طلاق دو بار ہے “ ایک ایسی آیت ہے جو محکم زبان میں ہے۔ اسی طرح اِنَّ الصَّلاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَاباً مَّوْقُوتَاً (4:103)۔ یعنی، بیشک نماز اہل ایمان پر مقرر وقتوں کے ساتھ فرض ہے۔ یہ بھی محکم اسلوب کی ایک مثال ہے۔ ان دونوں آیتوں کے مفہوم کو ہم پوری طرح سمجھا سکتے ہیں۔
جہاں تک محکم آیتوں کا تعلق ہے، ایسی آیتیں انسان کے دائرہ علم سے تعلق رکھتی ہیں۔ اُن کی تفصیلات جاننے کے لیے انسان مکمل تحقیق اور غور و فکر کر سکتا ہے۔ مگر جہاں تک متشابہات کا تعلق ہے، اُن کے بارے میں طالبِ قرآن کو اجمالی مفہوم پر اکتفا کرنا چاہیے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بجا طور پر کہا ہے: أَبْهِمُوا مَا اَبْهَمَ اللهُ (الاصل لمحمد بن الحسن، جلد 10، صفحہ 182)۔ یعنی تم اُس چیز کو غیر واضح رہنے دو جس کو اللہ نے غیر واضح رکھا ہے۔
متشابہ اسلوب کی ایک مثال یہ آیت ہے: یَدَاهُ مَبْسُوْطَتَانِ (5:64)۔ یعنی، خدا کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ یہ غیب کی بات ہے۔ اللہ کا ہاتھ کیسا ہے، اُس کو جاننا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ اس کا مفہوم ہم صرف اجمالی زبان میں سمجھ سکتے ہیں۔ کلی اور حتمی طور پر اُس کا مفہوم اس دنیا میں سمجھ نہیں جا سکتا۔ اس قسم کی باتوں کا حقیقی علم صرف اللہ کو ہے۔ انسان کے سامنے ان کو قابل فہم بنانے کے لیے انھیں تشبیہ و تمثیل کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ ان تمثیلات پر مجمل انداز میں ایمان رکھنا چاہیے۔ تمثیل کی تفصیلات تلاش کرنا ایک غیر سنجیدہ فعل ہے جو ذہنی انتشار کے سوا آدمی کو کہیں اور نہیں پہنچاتا۔ یہی لوگ ہیں جن کو قرآن کی مذکورہ آیت میں اصحابِ زیغ کہا گیا ہے، یعنی سچائی سے بھٹکنے والے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ اللهَ عز وجل فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوْهَا، وَحَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلَا تَنْتَهِكُوْهَا، وَحَدَّ حُدُوْداً فَلَا تَعْتَدُوْهَا، وَسَکَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا۔ (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 4396) یعنی، اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزوں کو فرض قرار دیا ہے، تو ان کو ترک نہ کرو، کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا تو ان کی خلاف ورزی نہ کرو، اور کچھ حدود قائم کیے تو اس سے آگے نہ بڑھو، اور کچھ چیزوں کے بارے میں اللہ نے خاموشی اختیار کی ہے بھولے بغیر، تو اس کے بارے میں چھان بین نہ کرو۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues