Al-Risala · July 2024 · page 41

آئیڈیا لوجی نہ کہ تلوار

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۴۱

ڈائری 1986

تبلیغی جماعت کے دو آدمی ملنے کے لیے آئے۔ انہوں نے مولانا عمر پالن پوری کے بارے میں کچھ باتیں بتائیں۔

مولانا عمر پالن پوری تبلیغی جماعت کے خاص مقرر ہیں۔ وہ روزانہ بلاناغہ تبلیغی مرکز نظام الدین میں تقریر کرتے ہیں۔ مذکورہ حضرات نے بتایا کہ ان کا ایک خاص انداز یہ ہے کہ وہ بالکل سادہ اور عام فہم مثالیں دیتے ہیں۔ مثلاً آج کی تقریر میں وہ یہ بتا رہے تھے کہ دنیا کی چیزیں خدا کے محبوب بندوں کو بھی ملتی ہیں اور خدا کے مبغوض بندوں کو بھی۔ بظاہر ملنے کے اعتبار سے دونوں یکساں نظر آتے ہیں، مگر دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ طوطے کے پنجرے میں بھی روٹی ڈالی جاتی ہے اور چوہے کے پنجرے میں بھی۔ مگر دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ ہے۔ چوہے کو روٹی اس کو پکڑنے کے لیے دی جاتی ہے، جب کہ طوطے کوروٹی اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس کے لیے غذا بنے۔ میں نے کہا کہ اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے مشن اور تبلیغی جماعت کے مشن میں کیا فرق ہے۔ یہ فرق طریق اظہار کا ہے، نہ کہ حقیقت کا۔ تبلیغ کے لوگوں کا خطاب زیادہ تر عوام سے ہوتا ہے، اس لیے وہ دین کی بات کو بالکل سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کرتے ہیں۔ میرا خطاب خواص (تعلیم یافتہ طبقہ) سے ہے۔ اس لیے ہم اسی دینی پیغام کو علمی انداز میں اور جدید اسلوب میں پیش کرتے ہیں۔ 5 جون 1986 ہر سال رمضان میں کسی رات کو ایسا ہوتا ہے کہ مجھ پر خصوصی کیفیات گزرتی ہیں۔ جن سے مجھے گمان ہوتا ہے کہ غالباً آج ہی شب قدر ہے۔ اس سال (رمضان 1306ھ) میرا گمان ہے کہ شب قدر 25 رمضان کی رات کو پڑی۔

آج کی رات مجھے دوسری راتوں سے کم نیند آئی۔ پھر صبح کو فجر کے وقت خاص کیفیت طاری ہوئی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues

Printed page