Al-Risala · July 2024 · page 42

آئیڈیا لوجی نہ کہ تلوار

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۴۲

اور ایک ایسی دعا نکلی جو اس سے پہلے کبھی نہ نکلی تھی۔ میری زبان پر بے اختیارانہ یہ الفاظ جاری ہو گئے : خدایا ! تیرے بندے سلیمان نے تجھ سے ایسی حکومت مانگی تھی جو کسی اور کو نہ ملی ہو۔ وہ ایک پیغمبر تھے اور اس دعا کے سزاوار تھے۔ میں ایک عاجز اور گنہ گار بندہ ہوں۔ میں تجھ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ تو میری ایسی مدد کر جو تو نے کسی کی نہ کی۔ یہ کہ تو مجھے قیامت کے دن بلا استحقاق بخش دے ۔ میری ساری خطاؤں اور کوتاہیوں کے باوجود مجھے جنت میں داخل کر دے۔

فجر کے وقت جب مجھ پر یہ کیفیت گزری، اس وقت میرے ذہن میں کوئی حدیث وغیرہ نہ تھی ۔ بعد کو مجھے ایک حدیث یاد آئی جو مذکورہ گمان کی بالواسطہ تصدیق کرتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے خدا کے رسول! اگر مجھے لیلۃ القدر مل جائے تو میں کیا کروں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ دعا کرو : ’’اَللّٰھُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّى (جامع الترمذی ، حدیث نمبر 3513) ۔ یعنی ، اے اللہ ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے۔ تو معافی کو پسند کرتا ہے۔ پس مجھے معاف کر۔“ اس حدیث سے بیک وقت دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ شب قدر کی تاریخ اگرچہ نص کے ذریعہ متعین نہیں ہے۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ کوئی بندہ خدا اپنے ذاتی احساسات کے تحت اس کا ادراک کر سکے۔ دوسری بات یہ کہ اگر اس مبارک لمحات سے کسی کا ربط قائم ہو تو اس پر سب سے زیادہ جو کیفیت طاری ہوگی وہ استفسار کی کیفیت ہے۔ جس کا ایک نمونہ مذکورہ دعا کے الفاظ میں ملتا ہے۔ دہلی کے زو (Zoo) میں ایک گینڈا تھا، جس کا نام روزی تھا۔ 30 مئی 1986 کو اس کا انتقال ہو گیا۔ جب کہ اس کی عمر چھ سال تھی۔ اس کا وزن تین ٹن سے زیادہ تھا۔ وہ مادہ گینڈا تھی جو چند سال پہلے چنڈی گڑھ سے لائی گئی تھی تا کہ دو نر گینڈے کے ساتھ رہ سکے۔ وہ حاملہ تھی۔ گینڈے کے یہاں عام طور پر 16 مہینے میں بچہ پیدا ہوتا ہے ۔ چنانچہ جولائی 1986 میں اس کے وضع حمل کی مدت پوری ہورہی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues

Printed page