8 جون 1986
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۴۳
روزی کے بارے میں یہ رپورٹ 31 مئی 1986 کے ٹائمس آف انڈیا میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد جو واقعہ گزرا، وہ ٹائمس آف انڈیا، 4 جون 1986 کے الفاظ میں یہ تھا: "The response to 'The Times of India' story on the sick Rosy was phenomenal. The phone was constantly ringing as several animal lovers sought to keep in touch with her progress."
بیمار روزی کے بارے میں ٹائمس آف انڈیا کی خبر کا رسپانس غیرمعمولی تھا۔ ٹیلی فون کی گھنٹی مسلسل بجتی رہی کیوں کہ بہت سے جانور سے دلچسپی رکھنے والے لوگ ہر لمحہ اس کی حالت کو جاننا چاہتے تھے۔ میں نے یہ رپورٹ پڑھی تو میرے ذہن میں سوال آیا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگوں کو جانوروں کے ساتھ اتنی ہمدردی ہوتی ہے، مگر یہی ہمدردی ان کو انسانوں کے ساتھ نہیں ہوتی۔ اس کا جواب یہ سمجھ میں آیا کہ جانور ہمیشہ اپنے دائرہ میں رہتا ہے، وہ کبھی انسان کو بلاوجہ تکلیف نہیں پہنچاتا۔ جب کہ انسان ہر بار اپنے دائرہ سے باہر آتا ہے اور دوسرے انسانوں کو مختلف طریقہ سے پریشان کرتا رہتا ہے۔ انسان سے محبت کرنے کے لیے وہ دل چاہیے جو دوسرے کی زیادتی کے باوجود اس سے محبت کر سکے۔ چونکہ لوگوں کے پاس اس قسم کا بڑا دل نہیں، اس لیے انسان سے محبت کرنے والے بھی نہیں۔ جانور سے محبت کرنے میں انسان کی بڑائی نہیں چھپتی۔ جب کہ انسان سے محبت کرنا اس وقت ممکن ہے، جب کہ ذاتی بڑائی کا جذبہ آدمی اپنے اندر سے نکال چکا ہو۔
8 جون 1986
7 جون 1986 کے اخبارات میں یہ خبر تھی کہ کنڑ زبان کے مشہور ادیب ڈاکٹر ماستی وینکٹیش آئنگر (Masti Venkatesha Iyengar) کا 95 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ ڈاکٹر ماستی 6 جون 1891 کو پیدا ہوئے تھے۔ دوبارہ عین اسی تاریخ 6 جون 1986 کو اس دنیا سے چلے گئے۔ ڈاکٹر ماستی نے جہاں سے اپنی زندگی کا سفر شروع کیا تھا، وہ دوبارہ وہیں پہنچ گئے۔ ہر آدمی اسی طرح پیچھے کی طرف لوٹتا ہے۔ اگرچہ ایسے لوگ بہت کم ہیں جن کی وفات بھی عین اسی تاریخ کو ہو جس تاریخ کو ان کی پیدائش ہوئی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues