Al-Risala · July 2024 · page 44

10 جون 1986

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۴۴

ڈاکٹر محسن عثمانی اور جناب اسلم صاحب (آئی اے ایس) ملنے کے لیے تشریف لائے۔ دونوں نے مشترکہ طور پر کہا کہ الرسالہ میں تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ صرف مثبت طور پر اپنی بات پیش کرنی چاہیے۔ میں نے کہا کہ تنقید کو برا ماننا سراسر دور تنزل کی بات ہے۔ دور عروج میں کبھی تنقید کو برا نہیں مانا جاتا تھا۔ صحابہ کرام کے زمانہ میں تنقید کا عام رواج تھا۔ ان لوگوں نے کہا کہ تنقید کا کیا فائدہ ہے؟ میں نے کہا کہ تنقید ہی سے اعلیٰ انسان بنتے ہیں۔ ذہنی بیداری اور شعوری انقلاب کبھی تنقید کے بغیر نہیں آسکتا۔

انہوں نے کہا کہ قرآن میں حکم ہے کہ نبی کا احترام کرو، نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرو۔ میں نے کہا کہ نبی کا معاملہ ایک مستثنیٰ معاملہ ہے۔ نبی کے اوپر آپ علما کو قیاس نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر محسن عثمانی صاحب نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ (المقاصد الحسنۃ للسخاوی، حدیث نمبر (459)۔ یعنی، میری امت کے علما بنی اسرائیل کے انبیا کی مانند ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علما ئے امت کا بھی اسی طرح احترام ہونا چاہیے، جس طرح انبیا کا کیا جاتا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ حدیث علما کے احترام کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ علما کی ذمہ داریوں کے بارے میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت مسلمہ کے علما وہ کام کریں گے جو بنی اسرائیل کے انبیا کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے بارے میں آیا ہے کہ ان کی رہنمائی برابر انبیا کرتے تھے : كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3455)۔ مگر پیغمبر اسلام کے بعد نبوت ختم ہو گئی۔ اس لیے یہاں انسانوں کی رہنمائی کے لیے پیغمبر نہیں آئیں گے، بلکہ علما کو وہ کام انجام دینا پڑے گا جس کام کو پہلے انبیا انجام دیتے تھے۔

10 جون 1986

یہ بہت ضروری ہے کہ آدمی جس کام کو لے کر اٹھے، اس کے لیے وہ competent ہو۔ مثلاً مولا ناشبلی نعمانی (1857-1914) نے زور وشور کے ساتھ اسلامی تعلیم کا ایشو اٹھایا۔ اس وقت کچھ لوگوں نے جوابی تحریک اٹھائی کہ اسلامی تعلیم مسلم نوجوانوں کو پیچھے لے جائے گی، کیوں کہ اسلام علم

‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues

Printed page