10 جون 1986
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۴۵
کا مخالف ہے۔ اس کی مثال یہ دی گئی کہ حضرت عمر کے زمانہ میں جب اسکندریہ (مصر) فتح ہوا تو انہوں نے عظیم یونانی کتب خانہ کو جلا دیا۔ اس طرح دنیا پچھلے انسانی دماغوں کے ورثہ سے محروم ہوگئی۔ اس کے جواب میں مولانا شبلی نے زبردست تحقیق کر کے بتایا کہ یہ کتب خانہ اسلامی فتح سے بہت پہلے جلا یا جا چکا تھا۔ بعد کو چھٹی صدی ہجری میں ایک عیسائی مؤرخ ابو الفرج ملطی نے یہ کیا کہ عیسائیوں کو اس الزام سے بچانے کے لیے غلط طور پر اس واقعہ کو مسلمانوں سے منسوب کر دیا۔
اسی طرح مولانا شبلی نے اسلامی تاریخ کی عظمت پر کتابیں لکھیں۔ اس وقت زور شور کے ساتھ یہ بات کہی گئی کہ اسلام مساوات کے خلاف ہے اور اس کی ایک مثال جزیہ ہے۔ جوان لوگوں کے نزدیک غیر مسلم ہونے کا ٹیکس ہے۔ مولانا شبلی نے دوبارہ نہایت تحقیق کے ساتھ ایک کتاب لکھی کہ جزیہ غیر مسلم ہونے کا ٹیکس نہیں تھا، بلکہ فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہونے کا معاوضہ تھا۔ شبلی کی ان تحقیقات کے بعد مخالف مغلوب ہو کر رہ گیا۔
اس کے برعکس مثال موجودہ زمانہ میں شاہ بانو بیگم کے مسئلہ کی ہے۔ شاہ بانو کے معاملہ میں موجودہ علما نے زبردست طوفان مچایا۔ اور تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ اعلان کیا کہ اسلامی شریعت میں مطلقہ کے لیے نفقہ نہیں ہے۔
اب جدید طبقہ کے سامنے دو تصویریں تھیں۔ ایک طرف یہ کہ اسلام ایک مرد کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو کسی بھی وقت طلاق دے کر رخصت کر دے اور اس کے خرچ کی ذمہ داری نہ لے۔ دوسری طرف وہ دیکھ رہا تھا کہ ملک کا کریمنل پروسیجر کوڈ (دفعہ 125) یہ تجویز کرتا ہے کہ مطلقہ کو اس کا سابقہ شوہر 500 روپے ماہانہ کی حد تک گزارہ ادا کرے۔ اس تقابل میں انہیں اسلام بظاہر کم تر نظر آیا اور جدید قانون برتر۔ چنانچہ اس صورت حال کو استعمال کر کے غیر مسلموں نے اور جدت پسند مسلمانوں نے اسلام کو خوب بدنام کیا۔ یہاں دوبارہ ضرورت تھی کہ اس موضوع پر تحقیق کر کے دکھایا جائے کہ اسلام کا قانون ہی زیادہ بہتر ہے۔ مگر موجودہ علما میں سے کوئی شخص یہ کام نہ کر سکا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شریعت اسلامی کے تحفظ کی تحریک عملاً صرف شریعت اسلامی کو degrade کرنے پر ختم ہوگئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues