ایک رجل سعید کا انتقال
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۴۷
ہے ۔ اس سے پہلے بھی مولانا وحید الدین خاں صاحب کو جامعہ دارالسلام کی گولڈن جوبلی، اپریل 1977 میں مدعو کیا گیا تھا۔ جس میں مولانا نے ’’اسلامی انقلاب: تاریخ انسانی کے لیے نیا موڑ‘‘ کے عنوان سے ایک علمی وفکری مقالہ پڑھا۔ یہ مقالہ مولانا کی کتاب ،ظہورِ اسلام میں شامل ہے۔ محترم سکریٹری صاحب بڑے سادہ مزاج تھے۔ آپ کی سادہ مزاجی ایک واقعہ مولانا وحید الدین خاں صاحب نے اپنے سفر عمر آباد کا ایک تجربہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے، ”(ایک) مجلس کے دوران مولانا کا کا سعید احمد عمری میرے کمرے میں آئے۔ اس وقت وہاں کئی اساتذہ، دعاة اورادارۂ تقابل ادیان کے طلبا) بیٹھے ہوئے تھے، جوان کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ کا کا صاحب نے ان لوگوں کو سختی کے انداز میں کھڑے ہونے سے منع کیا اور کہا کہ آپ لوگ جیسے بیٹھے ہیں، اسی طرح بیٹھے رہیں، اٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد کا کا صاحب کا خاموشی کے ساتھ کمرے میں ایک طرف خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے۔ یہ منظر میں نے صرف جامعہ دارالسلام میں دیکھا۔ “(الرسالہ، اکتوبر 2010)
راقم الحروف نے انتہائی قریب سے محترم سکریٹری صاحب کا مشاہدہ کیا ہے۔ آپ کی شخصیت کی چند قابل نمونہ خصوصیات یہ تھیں: آپ بے حد سادہ مزاج، اور تکلفات سے خالی تھے، بولڈ فیصلہ لینا (bold decision)، ہر چھوٹی بڑی نعمت کی قدر کرنا، سنجیدگی و متانت اور وقت کی بے انتہا پابندی، وغیرہ۔ آپ نہ صرف اپنی تربیت و تزکیہ کے لیے کوشاں رہتے تھے، بلکہ اپنے ادارے کے افراد کی تربیت کے لیے بھی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے تھے۔ آپ بہت ہی درد مندی کے ساتھ اس قسم کی باتیں دہرایا کرتے تھے— ربانی انسان بننا، انسانیت کے لیے خیر خواہ بننا، نارِ جہنم سے خود بھی بچنا اور برادرانِ وطن کو بھی بچانا، وغیرہ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دعوت و تبلیغ کے فیلڈ میں میرے آنے کا ایک محرک محترم سکریٹری صاحب تھے۔ جامعہ سے فراغت کے بعد میں روزگار کے لیے قطر چلا گیا ۔ اس دوران جناب سکریٹری صاحب قطر آئے اور دعوت کی اہمیت اور ہندوستان میں اس کے لیے سازگار ماحول کو بیان
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues