ایک رجل سعید کا انتقال
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۴۸
کیا تو مجھے سمجھ میں آیا کہ دینی تعلیم کا اصل مقصد تو دعوت الی اللہ ہے، چنانچہ میں قطر سے انڈیا واپس آ گیا، اور محترم سیکریٹری صاحب کی مدد سے اس میدان میں لگ گیا۔
محترم سیکریٹری صاحب نے گزشتہ سال کے تقسیم اسناد کے سالانہ اجلاس (5 مارچ 2023) میں اپنے فارغین کو نصیحت کرتے ہوئے جو کچھ کہا تھا ان میں سے چند باتیں یہ ہیں ” فکری اختلاف کے باوجود دوسروں کو برداشت کیجیے۔ دوسروں سے حسن ظن رکھیے۔ اُن کی خدمات اور خوبیوں کا اعتراف کیجیے۔ ہر حال میں دین کی خدمت ہو۔ یہی خلوص کی پہچان ہے۔ حقیقت پسندی کے ساتھ سوچیے تو ان حالات کے لیے ہم مسلمان بھی ذمے دار ہیں۔ اگر ہم نے اپنے اخلاق و کردار سے اسلام کی درست ترجمانی کی، اور اسلام کا پیغام برادران وطن تک پہنچانے کی کوشش کی تو، ان شاء اللہ، یہ اندھیرا چھٹ سکتا ہے۔ دعوت دین سراسر محبت اور ہمدردی کا کام ہے۔ اس درد کے ساتھ ہمیں برادران وطن کو اپنی محبت کا موضوع بنانا ہے۔ اپنی صالحیت اور صلاحیت ، دونوں کا معیار بلند کرنے کی فکر کیجیے تبھی آپ زمانے کے ساتھ چل سکیں گے ۔ “ (بحوالہ مولانا محمد رفیع کلوری عمری، مدیر مسئول ماہنامہ راہ اعتدال، عمر آباد) اس قسم کی نصیحتیں آپ ہمیشہ جامعہ کے فارغین کو کیا کرتے تھے۔
محترم سیکریٹری صاحب کی وفات ہمارے لیے یقیناً غم کا باعث ہے مگر اللہ تعالی کے منصوبہ تخلیق سے کسی کو استثنا حاصل نہیں، ہر ایک کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے۔ تاہم قابل اطمینان بات یہ ہے کہ محترم سیکریٹری صاحب نے اپنے پیچھے نیک وارثین اور اپنے ادارے کے صالح فارغین کی بڑی تعداد کو چھوڑا ہے۔ پوری امید ہے کہ محترم سیکریٹری صاحب کے بعد ان سے فیض یافتہ یہ حضرات اس عربی شعر کے مصداق ثابت ہوں گے : إِذَا مَاتَ مِنَّا سَيِّدٌ قَامَ سَيِّدُ ( جب ہم میں سے ایک سردار وفات پا تا ہے تو دوسرا سردار کھڑا ہو جاتا ہے ) ۔ وہ محترم سیکریٹری صاحب کے بعد بھی ربانیت اور دعوت کے راستے پر قائم رہیں گے۔ اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ محترم سیکریٹری صاحب کی مغفرت کر کے جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے گا۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues