Al-Risala · September 2024 · page 34

خوشی کا راز

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۴

کے سامنے دین کو اس کی فطری صورت میں پیش کیا۔ غیر ضروری پابندیوں کو ختم کر کے سادہ اور آسان دین کی طرف انسانوں کی رہنمائی فرمائی۔ یہی سادہ اور آسان دین اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں بہت سے جھوٹے دجال ظاہر ہوں گے۔ وہ تم کو ایسی حدیثیں سنائیں گے جن کو نہ تم نے سنا ہوگا اور نہ تمھارے باپ دادا نے سنا ہوگا۔ پس تم ان سے بچنا اور ان کو اپنے سے دور رکھنا۔ تا کہ وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنے میں نہ ڈالنے پائیں۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 707)

دجال سے مراد خداع ہے (لسان العرب، جلد 11، صفحہ 237)۔ یعنی بہت بڑا دھوکہ دینے والا۔ معمولی دھات کے برتن پر سونے کا پانی چڑھا کر اس کو سونا ظاہر کیا جائے تو اس کو بھی دجل کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو انسانوں کے ساتھ غلط رہنمائی کا معاملہ کریں گے۔ چوں کہ غلط رہنمائی کا عمل وہ لوگ نہایت ہوشیاری کے انداز میں انجام دیں گے، اور عام انسان اس کی غلط رہنمائی کو صحیح رہنمائی سمجھ لیں گے، اس لیے ان کو حدیث میں دجال (The Great Deceiver) کہا گیا ہے۔

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں امت میں ایسے فریبی لوگ پیدا ہوں گے جو غیر دینی باتوں کو دینی بنا کر پیش کریں گے۔ ان کی باتیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے سراسر غیر اسلامی ہوں گی مگر موضوع حدیثوں اور غلط تفسیروں کے ذریعے وہ ان کو اس طرح خوش نما بنائیں گے کہ لوگ ان کو عین اسلام سمجھ کر ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔ یہ امت کی تاریخ میں شاید سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ اسی لیے اس کو دجالی فتنہ سے تعبیر کیا گیا۔ دجال کا فتنہ آئیڈیالوجی کا فتنہ ہے جو لوگ اس فتنہ میں مبتلا ہوں، ان کو دجالی فریب سے نکالنے کے لیے دوبارہ حجت یعنی عقلی استدلال کا طریقہ استعمال کرنا ہوگا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب تو رات کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور عربی میں اس کا ترجمہ کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تردید۔ تم یہ کہہ دو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر ایمان لائے جو ہماری طرف اتارا گیا ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7542)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page