Al-Risala · September 2024 · page 44

16 جون 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۴

اسلامی کے دائرے سے باہر نکل آؤں۔ سو میں نے یہ کہا اور میں اپنے اس فیصلے پر مطمئن ہوں۔ سوال: جماعت اسلامی کے فکر سے آپ کو بنیادی اختلاف کیا تھا؟

جواب: دیکھیے، مولانا مودودی مرحوم کی غلطی عام غلطیوں سے مختلف ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کیا کہ دین، عقیدہ اور عمل کے جس مجموعہ کا نام ہے، اس میں کمی بیشی کی ہو۔ وہ سارے دین کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس مجموعہ کے مختلف اجزا کی واقعی حیثیت ان کی تشریح میں بدل گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان سے متاثر اذہان بظاہر سب کچھ مانتے ہیں، لیکن سب کچھ کو وہ اس طرح نہیں مانتے جس طرح کہ انہیں ماننا چاہیے۔

قرآن وحدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل چیز خدا سے تعلق پیدا کرنا اور آخرت کے عذاب سے ڈرنا ہے۔ اس کو ہمیں اپنانا ہے اور اسی کی طرف ہمیں اہل دنیا کو بلانا ہے۔ لیکن اس فکر نے آخرت اور تعلق باللہ کے پہلو کو محض تربیت کی ضرورت بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس کی تشریح کے خانے میں یہ چیزیں ایسی حیثیت اختیار کی گئی ہیں۔ گویا یہ کارکن تیار کرنے کی تربیت گاہیں ہیں، نہ کہ یہی وہ اصل بات ہے جس کے لیے ہمیں متحرک ہونا ہے۔ مولانا مودودی مرحوم کے خیال میں اصل مسئلہ دنیا میں انقلاب برپا کرنے کا ہے۔ آخرت کا خوف اور اس طرح کی دوسری چیزیں اس لیے ہیں تاکہ جو لوگ انقلاب عالم کا یہ پروگرام لے کر اٹھیں یا انقلاب کے بعد نظام دنیا کو سنبھالیں ان میں مقصد کی لگن اور کردار پیدا ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جماعت اسلامی کے لوگ آخرت کی کامیابی کے بجائے دنیا میں کامیاب ہونے کو اپنا حقیقی مقصد بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا حقیقی مقصد تو بلاشبہ آخرت ہی کی کامیابی ہے، لیکن آخرت کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دنیا میں کیا کرنا ہے، اس کے متعلق ان کا تصور غلط ہو گیا ہے۔ ایک شخص اگر یہ نظریہ قائم کرلے کہ دنیا کی مادی قوتوں کی تسخیر آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے اور یہ سوچ کر وہ اس کے لیے کام کرنا شروع کر دے تو اس کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ اصل مقصد کی حیثیت سے تو بے شک اس نے آخرت میں خدا کی رضا ہی کو سامنے رکھا ہے مگر اس رضا کو حاصل کرنے کی صورت کیا ہو؟ دوسرے لفظوں میں دنیا میں ہم کیا پانے کی کوشش کریں، تاکہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page