Al-Risala · September 2024 · page 45

16 جون 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۵

آخرت میں ہم خدا کو پاسکیں؟ اس کے متعلق جماعت اسلامی کا تصور بدل گیا ہے۔

اس تشریح کا نتیجہ یہ ہے کہ تعلق باللہ اور آخرت وغیرہ کی باتیں اگرچہ جماعت اسلامی کے پروگرام میں شامل ہیں، لیکن اس کے افراد میں وہ اپنا حقیقی مقام حاصل نہ کرسکیں۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ میں خوف خدا اور فکر آخرت کے حوالے سے جو بات کرتا ہوں اس کو اس تعبیر سے متاثر ذہن رد نہیں کرتا۔ وہ اس کو دلچسپی سے پڑھتا اور سنتا ہے، لیکن لٹریچر نے اس کا جو ذہنی سانچہ بنادیا ہے اس کی وجہ سے اس قسم کی باتیں اس کے اندر صحیح شکل میں نہیں بیٹھتیں۔ وہ بس تربیت کے خانے میں چلی جاتی ہیں۔ اب چونکہ دین اور فطرت میں کامل مطابقت ہے، اس لیے اگر فطرت میں ذراسی کجی آجائے تو دین اس کے اندر ٹھیک ٹھیک بیٹھ نہیں سکتا۔ لہٰذا سننے اور پڑھنے کے باوجود اس طرح کی باتوں کا واقعی اثر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ مجھے فیصلہ کرنا پڑا کہ محض مثبت طور پر اپنی بات کہتے رہنا بے سود ہے۔ اب ضروری ہے کہ سابقہ تعبیر پر براہ راست تنقید کر کے پہلے اس کا غلط ہونا ثابت کیا جائے۔ سو میں نے یہ کیا۔ سوال: آپ نے اس مسئلے پر مولانا مودودی مرحوم سے خط و کتابت بھی کی تھی؟

جواب: دسمبر 1961 میں، میں نے اپنی تحریر کی ایک نقل تیار کر کے ان کے نام روانہ کی۔ لیکن یہ ان تک پہنچ نہ سکی۔ اس کے بعد میں نے پھر ایک نقل 10 مئی 1962 کو دستی طور پر لاہور روانہ کی اور یہ درخواست کی کہ وہ اس کا جواب مرحمت فرمائیں۔ لیکن انہوں نے جواب نہ دیا۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کا رویہ شاید انہوں نے میرے ساتھ ہی اختیار کیا، ورنہ بالعموم وہ ہر ایک کو جواب دے دیا کرتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ میرا جواب نہ دیا بلکہ طرح طرح کے فقرے بھی مجھ پر کستے رہے۔ ایک مرتبہ انہوں نے لکھا کہ آپ اپنی تحریر کے ہر صفحہ کے ساتھ ایک خالی صفحہ منسلک کر دیں۔ میں نے ایسا کر دیا۔ لیکن جواب ندارد۔ البتہ ایک کاغذ پر انہوں نے کچھ لکھا ہوا تھا، لیکن پھر اس کو مٹا ڈالا گیا تھا۔ اب چونکہ یہاں ان کی نیت کا مسئلہ آجاتا ہے اور میرا طریقہ یہ ہے کہ میں نیت پر بات نہیں کرتا کہ نیت کا حال اللہ ہی جانتا ہے۔

لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ میرے لیے ایک بہت بڑا حادثہ تھا۔ میں نے اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page