Al-Risala · September 2024 · page 46

16 جون 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۶

ساتھیوں سے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہوتی اگر مولانا مودودی میرا ذہن بدل دیں۔ میں نے یہ بھی کہا کہ مولانا مودودی نے اگر میری تحریر کا جواب نہ دیا صرف اتنا ہی کر دیا کہ تحریر کے کسی ایک حصہ کو لے کر اسے غلط ثابت کر دیا تو اس سے کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ میں متزلزل ہو جاؤں گا۔ لیکن افسوس کہ میری یہ امید بھی پوری نہ ہوئی۔ بہر حال میرا خیال ہے کہ مولانا مودودی نے ایک مخدوش راہ کا انتخاب کیا۔ یہ ان کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری تھی کہ وہ میرے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے۔ سوال: مولانا مودودی مرحوم سے کبھی آپ کی براہ راست ملاقات ہوئی؟

جواب: میری ان سے دو ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ شاید 1971 کے لگ بھگ کی بات ہے۔ دونوں ملاقاتیں مولانا کے گھر 5 اے ذیلدار پارک میں ہوئیں۔ ایک ملاقات عصر اور مغرب کے درمیان ہوئی۔ دوسری ملاقات تنہائی میں ہوئی، جس میں طویل بات چیت بھی ہوئی۔

سوال: کن موضوعات پر گفتگو ہوئی؟ "تعبیر کی غلطی" پر بھی تبادلہ خیال ہوا؟ جواب: یہ میرا اور ان کا معاملہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب اس طرح کی ملاقات سے کسی کو کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔ اس لیے اس کو رہنے ہی دیجیے۔

سوال: مولانا ابوالکلام آزاد نے حزب اللہ قائم کی، مولانا مودودی مرحوم نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی اور اب ڈاکٹر اسرار احمد تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم سے اسلامی انقلاب کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ لیکن نہ صرف یہ کہ اس طرح کی جماعتوں کے معاشرے پر کوئی قابل ذکر اثرات نظر نہیں آتے، بلکہ ان تحریکوں نے جو اہداف (target) مقرر کیے بظاہر وہ بھی حاصل نہیں ہو سکے۔ آپ کے خیال میں اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

جواب: اس کی وجہ بڑی واضح ہے۔ اگر آپ کو گھر بنانا ہے تو پہلے ہی مرحلہ پر آپ اس کی چھت نہیں اٹھا سکتے۔ اگر ایسا کریں گے تو قیامت تک گھر نہیں بن سکے گا۔ پہلے آپ کو اس کی بنیاد رکھنی ہوگی، پھر ستون تعمیر ہوں گے، پھر اس کے بعد چھت ڈالی جائے گی۔ اخباروں میں ایک اصطلاح ہے الٹا بہرام (Inverted Pyramid)۔ مطلب یہ کہ ایک شخص نے مال روڈ (لاہور) پر گولی سے ایک شخص کو ہلاک کر دیا۔ خبریہ ہوگی کہ ایک آدمی گولی سے ہلاک ہو گیا۔ اب یہ واقعہ کی آخری

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page