Al-Risala · September 2024 · page 48

16 جون 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۸

سوال و جواب سوال قرآن میں یہ دعا آئی ہے: رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (10:85) ۔ یعنی، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا۔ اسی طرح سورہ الممتحنہ میں ہے: رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا (60:5) ۔ یعنی، اے ہمارے رب، ہم کو منکروں کے لیے فتنہ نہ بنا۔ ان دونوں آیتوں میں ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کا مطلب کیا ہے۔

جواب

اللہ تعالیٰ نے اس دعا کے ذریعے اہل ایمان کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ کسی بھی اعتبار سے غیر اہل حق کو فتنہ اٹھانے کا موقع نہ دیں۔ ایک مفسر نے اس کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: لا تجعلنا سببا لزيادة طغيانهم (تفسیر مظہری ، جلد 5، صفحہ 50)۔ یعنی اے رب ہم کو سبب نہ بنا ان کی سرکشی میں اضافہ کا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی طرف سے کوئی ایسا غلط اقدام نہ کریں، جس سے کسی کو یہ جواز (justification) ملے کہ وہ ہمارے اوپر ظلم کرے، وہ ہم کو دین پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے سے روکے۔

اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عالمی حالات میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوا، جو اس حد تک پہنچا کہ اللہ کے دین کو عمومی اعتراف (general acceptance) کا درجہ حاصل ہو گیا۔ اب اپنے اور غیر (we and they) کا فرق مٹ گیا ہے۔ موجودہ دور میں کچھ لوگ اگر مومنین ہیں تو بقیہ لوگ مؤیدین (supporters) ہیں ۔ اس طرح اہل ایمان کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی حقیقی رکاوٹ کے بغیر اللہ کے دین پر عمل کریں، اور اس کو سارے عالم میں پہنچائیں۔

اب دنیا کا مل مذہبی آزادی کے دور میں ہے۔ اب اسلام کی دعوت کے لیے دوسری قوموں کی طرف سے کوئی حقیقی رکاوٹ نہیں۔ موجودہ زمانے میں اگر کوئی شخص یا گروہ حقیقی معنوں میں پر امن

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page