سپریم چیز
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۳۴
ڈائری 1986
آج ابوبکرنجار (جنوبی افریقہ) ملنے کے لیے آئے۔ ان کا پورا پتہ یہ ہے۔ Shaikh Aboubaker Najaar President, Islamic Council of South Africa, 12, Elwyn Road, Craw ford, Cape, P.O. Box 200, Athlone 7760, SA جناب ابوبکرنجار صاحب نے بتایا کہ جنوبی افریقہ کی کل آبادی 30 ملین ہے۔ اس میں نصف ملین مسلمان ہیں۔ مسلمانوں نے وہاں کے قادیانی فرقہ کے خلاف مقامی عدالت میں مقدمہ کیا تا کہ قادیانیوں کو اپنی مساجد اور دینی مقامات میں آنے سے روک دیں۔ مگر عدالت نے خلاف فیصلہ دیا اور اب قادیانی پہلے کے مقابلہ میں زیادہ دلیری سے مسلمانوں کے مذہبی مقامات میں آنے لگے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کا مسئلہ اور زیادہ بڑھ گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا وہاں کی عدالت میں تعصب ہے؟ انہوں نے کہا کہ بالکل نہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ مسلمان اپنے کیس کی مضبوط وکالت نہ کر سکے۔ چنانچہ اب وہاں کے مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ وہ مسلم ملکوں سے چندہ وصول کر کے دوبارہ سپریم کورٹ میں اس عدالتی فیصلہ کو چیلنج کریں۔
گفتگو کے دوران میں نے ابوبکرنجار صاحب سے پوچھا کہ کیا ساؤتھ افریقہ میں غیرمسلموں کے درمیان کچھ تبلیغی کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا نہیں۔
“Tabligh work among non-Muslims is virtually non-existent.”
مزید سوالات کے دوران انہوں نے بتایا کہ غیرمسلموں میں تبلیغی کام نہ ہونے کے باوجود لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ خاص طور پر بلیک کمیونٹی میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد کافی ہے۔ یہی صورت حال تقریباً ساری دنیا میں ہے۔ خالص کمیونسٹ ملکوں کو چھوڑ کر ہر جگہ یہ صورت حال ہے کہ مسلمان تبلیغی کام تو بالکل نہیں کرتے۔ مگر اس کے باوجود ہر ملک میں روزانہ لوگ کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues