17 اپریل 1986
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۳۵
ایک طرف مسلمانوں کی وہ سرگرمیاں ہیں، جن کا مطلق کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا ہے۔ دوسری طرف دعوت کے میدان میں اسلام ہر روز اپنی قوت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ مگر مسلمانوں کے لیے اس میں کوئی سبق نہیں۔
17 اپریل 1986
ایسٹ برلن (جرمنی) کے ایک کلب میں دھماکہ ہوا جس میں کچھ امریکی باشندے ہلاک ہو گئے۔ صدر امریکہ مسٹر ریگن نے اعلان کیا ہے کہ یہ لیبیا کے صدر معمر قذافی کی دہشت پسندانہ اسکیم کے تحت ہوا ہے۔ چنانچہ انہوں نے انتقامی کارروائی کے لیے اپنی فوجوں کو حکم دے دیا۔ اپریل 1986 میں امریکی جہاز لیبیا کی فضا میں پہنچے اور طرابلس (باب العزیزیہ) پر بمباری کی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں معمر قذافی کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ اس واقعہ پر ساری دنیا میں شدید رد عمل ہوا۔ نئی دہلی کے اخبار ایڈین ایکسپریس (17 اپریل 1986) کے اداریہ کا عنوان یہ تھا:
Shameful Aggression
(شرمناک جارحیت)۔ اس اداریہ کا آغاز ان الفاظ میں کیا گیا تھا:
“Shock, anger, disgust and alarm. These words sum up the reaction of much of the world to the naked and unprovoked attack the United State launched on Libya.”
ہزار سال پہلے اس قسم کا واقعہ سیاسی دنیا میں معمول کا ایک واقعہ تھا۔ اس وقت اس قسم کے واقعہ پر نہ کوئی رد عمل ظاہر کیا جاتا تھا اور نہ آج کل کی طرح پریس کے ذرائع تھے کہ منٹوں میں اس کی خبر ساری دنیا میں پھیل جائے اور لوگوں کے بیانات چھپ کر ہر جگہ پہنچ جائیں۔ یہ زمانہ کا فرق ہے۔ اس فرق نے موجودہ زمانہ میں اسلام کی دعوت کے لیے ایسا نیا امکان کھول دیا ہے جو اس سے پہلے کبھی دنیا میں موجود نہ تھا۔ مسلمان اگر اشتعال انگیزی سے بچیں تو وہ جارحیت کے اندیشے کے بغیر ساری دنیا میں اسلام کی دعوت پھیلا سکتے ہیں۔ (2004 میں رونالڈ ریگن کا اور 2011 میں کرنل معمر قذافی کا انتقال ہو چکا ہے۔ )
لیبیا پر امریکہ کا حملہ آج کل اخبارات کے صفحہ اول کی خبر بنا ہوا ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues