Al-Risala · January 2024 · page 36

19 اپریل 1986

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۳۶

اخبار ٹائمز آف انڈیا (18 اپریل 1986) کے صفحہ اول کی پہلی خبر کی سرخی یہ تھی: “Soviet warship takes up position in the Gulf of Sidra.”

سویت روس کے سمندری جنگی جہازوں نے خلیج سدرہ میں پوزیشن لے لی۔

یہ خبر بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلم ممالک کسی کی حمایت کے بل پر زندہ ہیں۔ آج ان کی اپنی ذاتی کوئی قوت نہیں۔ وہ صرف اس لیے زندہ ہیں کہ مغرب کی بڑی طاقتیں اپنی قوت کے ذریعہ ان کی سرپرستی کرتی ہیں۔ لیبیا کا سرپرست روس ہے، سعودی عرب کا سرپرست امریکہ۔ اور اسی طرح دوسرے مسلم ممالک۔

قرآن مجید میں یہود کے بارے میں آیا ہے کہ انہیں کبھی مستقل قوت حاصل نہ ہوگی۔ وہ یا تو اللہ کی رسی کے ساتھ رہیں گے یا لوگوں کی رسی کے ساتھ (3:112)- ”اللہ کی رسی“ سے مراد یہاں اسلامی حکومت ہے اور ”لوگوں کی رسی“ سے مراد غیر مسلم اقوام کی حکومت۔ یہود کے بارے میں یہ قرآنی پیشین گوئی مسلسل صحیح ثابت ہو رہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ان کی حکومت (اسرائیل) امریکہ کی سرپرستی کے بل پر زندہ ہے۔ مگر مسلمانوں کا حال بھی موجودہ زمانہ میں اس سے مختلف نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم ممالک اپنی کوئی ذاتی قوت نہیں رکھتے۔ وہ سب کسی نہ کسی غیر مسلم بڑی طاقت کی حمایت کے تحت زندہ ہیں۔ کوئی ملک روس کی حمایت کے تحت زندہ ہے اور کوئی امریکہ کی حمایت کے تحت۔

19 اپریل 1986

ایک صاحب جماعت اسلامی کے پرانے رکن ہیں۔ وہ جماعت کی مجلس نمائندگان کے ممبر ہیں، وغیرہ۔ وہ مجلس نمائندگان کے اجتماع کے تحت دہلی آئے تھے۔ اس درمیان وہ مجھ سے بھی ملنے کے لیے آئے۔ ان سے گفتگو کے دوران ہندوستان کے ایک معروف عالم دین کا ذکر آیا۔ میں نے مذکورہ عالم دین کی بعض باتوں کی تعریف کی۔ انہوں نے اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اندر قیادت کی مطلق صلاحیت نہیں۔ وہ زمانہ کو نہیں پہچانتے اور جس آدمی کے اندر زمانہ کی پہچان نہ ہو تو وہ کبھی قائد نہیں بن سکتا۔

میں نے پوچھا کہ زمانہ کی پہچان سے آپ کی کیا مراد ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل یوپی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page