“Modern management techniques and computerized
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۳۷
میں اور دوسرے مقامات پر بابری مسجد (اجودھیا) کا مسئلہ چھڑا ہوا ہے۔ تمام مسلمان اس مسئلہ پر سخت مشتعل ہیں۔ مگر مذکورہ عالم دین کا حال یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں کچھ بولتے نہیں۔ کئی اجتماعات میں ان سے بابری مسجد کے بارے میں سوال کیا گیا مگر وہ خاموش رہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت جو شخص بابری مسجد کا مسئلہ لے کر اٹھے گا وہ مسلمانوں کا قائد بن جائے گا۔ میں نے سوچا کہ زمانہ کی پہچان کے بارے میں لوگوں کا نظریہ کتنا ناقص ہے۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے کہ قائد کو زمانہ کی پہچان ہونی چاہیے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بابری مسجد جیسے مسائل کو لے کر دھواں دار تقریریں کرنے لگے۔
زمانہ کو پہچاننے سے مراد یہ ہے کہ ان قوتوں کو پہچانا جائے جنہوں نے زمانہ میں فیصلہ کن حیثیت حاصل کی ہے۔ جذباتی ابال اور چیز ہے اور زمانی حقیقتیں بالکل دوسری چیز۔ قائد کے لیے بلاشبہ ضروری ہے کہ وہ زمانی حقیقتوں کو جانے، اس کے بغیر وہ اپنی قوم کی صحیح رہنمائی نہیں کر سکتا۔ 1986 اپریل 20 ہندوستان کے موجودہ حکمراں نہایت پرجوش طور پر ہندوستان کو کمپیوٹرایج میں داخل کر رہے ہیں۔ شاید ان کا خیال ہے کہ صرف اس کام سے ان کا ملک کمپیوٹرایج میں داخل ہو جائے گا کہ مغربی ملکوں سے کمپیوٹر منگائے جائیں اور ان کو ملک کے ہر بڑے دفتر میں نصب کر دیا جائے۔ حالانکہ یہ مغالطہ کے سوا کچھ نہیں۔ ٹائمس آف انڈیا (19 اپریل 1986) میں مسٹر ایس ایس گل نے اس ذہنیت پر تبصرہ کرتے ہوئے نہایت صحیح طور پر لکھا ہے:
“Modern management techniques and computerized
office equipments are only aids to efficient management. They are no substitutes for systems or structures.”
جدید انتظامی طریقے اور دفتری کمپیوٹر صرف مستعد انتظامیہ کے لیے مددگار ہیں، وہ نظام یا ڈھانچہ کا بدل نہیں۔ انہوں نے اپنے مفصل آرٹیکل میں دکھایا ہے کہ موجودہ حالت میں ہندوستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ دفتروں میں کام کرنے والے کام نہیں کرتے۔ سرکاری دفاتر میں ڈیوٹی کے احساس کی آخری حد تک کمی ہے۔ ایسی حالت میں کمپیوٹر لگانے کا کیا فائدہ ہوگا، جب کہ کمپیوٹر کو استعمال کرنے والے ہا تھ اپنے حصہ کا کام ذمہ دارانہ طور پر نہ کریں۔ انہوں نے دلچسپ طور پر یہ جملہ لکھا ہے:
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues