Al-Risala · January 2024 · page 38

22 اپریل 1986

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۳۸

“A racing car, pulled by bullocks, will not move faster ایک تیز رفتار کار جس کو بیل کھینچ رہے ہوں، وہ بیل گاڑی سے زیادہ تیز نہیں چل سکتی۔ یہی تبصرہ مختلف صورتوں میں خود اسلامی ممالک پر بھی چسپاں ہوتا ہے۔ مثلاً افراد کی ضروری تربیت کے بغیر ملک میں شرعی قانون کو لاگو کرنا، وغیرہ۔

22 اپریل 1986

پاکستان جن نعروں سے بنا ان میں سب سے اہم نعرہ یہ تھا:

پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ

یہ مسلم لیگ کا نعرہ تھا۔ اس کے بعد جب پاکستان بن گیا تو کچھ دینی جماعتوں اور دینی قائدین نے یہ کہنا شروع کیا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس لیے یہاں اسلامی قانون کی حکومت ہونی چاہیے۔ ایک دینی رہنما نے مزید یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان کی عظیم اکثریت اسلام چاہتی ہے۔ صرف تھوڑے لوگ ہیں جو اتفاقاً حکومت پر قابض ہو گئے ہیں وہی غیر اسلام چاہتے ہیں۔ مگر پاکستان میں سیکولر پارٹیوں کا غلبہ ثابت کرتا ہے کہ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ مثلاً 1 اپریل 1986 میں بے نظیر بھٹو لندن سے لاہور پہنچی تو لاہور کے لوگ ان کے استقبال کے لیے امنڈ پڑے ۔ سڑکوں پر یہ نعرہ لگ رہا تھا:

پاکستان کی تقدیر بے نظیر بے نظیر

(ٹائمز آف انڈیا، 20 اپریل 1986)۔ بے نظیر بھٹو اور ان کی پارٹی کا نظریہ واضح طور پر غیر مذہبی ہے۔ آج بے نظیر بھٹو کو پاکستان میں اتنی مقبولیت حاصل ہے کہ جماعت اسلامی جیسی دینی جماعتیں الیکشن کے میدان میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتیں، یہاں تک کہ جنرل ضیاء الحق بھی نہیں۔ اسی طرح سیاست کے علاوہ دوسرے میدانوں میں بھی غیر دینی عناصر، خواہ وہ مثبت ہو یا منفی، کا غلبہ ثابت کرتا ہے کہ واقعہ وہ نہیں ہے، جیسا کہ وہاں کے کچھ دینی رہنما دعویٰ کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے نتیجہ میں پاکستان وجود میں آیا ہے، وہ اسلام کے نام پر غیر حکیمانہ سیاست چلانے کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ ایسی سیاست کا انجام وہی ہو سکتا تھا جو ہوا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page