دین میں آسانی
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۶
ڈائری 1986
موجودہ عیسائیت کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر گناہگار ہے۔ انسان کا پیدائشی گناہ گار ہونا اور خدا کے بیٹے کا مصلوب ہو کر اس کا کفارہ بننا، یہی وہ خاص عقیدہ ہے جس پر موجودہ عیسائیت کھڑی ہوئی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ ہزار برس سے وہ اسی کی تبلیغ کرتی رہی ہے۔ مگر اس عقیدہ کی کوئی اصل آسمانی تعلیمات میں موجود نہیں۔ حتیٰ کہ خود بائبل (پرانا عہد نامہ، نیا عہد نامہ) میں بھی نہیں۔ موجودہ محرف بائبل بھی اس عقیدہ سے خالی ہے۔
کیتھولک چرچ کے ایک جرمن عالم ریورنڈ ہربرٹ ہاگ نے ایک کتاب لکھی ہے:
Rev Herbert Haag: Is Original Sin in Scripture, New York, 1969 اس کتاب میں انھوں نے لکھا ہے کہ عیسائی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ابتدائی زمانہ کے عیسائیوں میں تیسری صدی عیسوی تک اس عقیدہ کا کوئی سراغ نہیں ملتا کہ انسان پیدائشی گناہ گار ہے۔ ابتدائی تین صدیوں کے بعد یہ عقیدہ عیسائیت میں داخل ہوا۔ شروع شروع میں جب بعض عیسائیوں نے یہ نظریہ پیش کیا تو 2 سو سال تک یہ حال رہا کہ عیسائی علما اس کو ماننے سے انکار کرتے رہے۔ آخر کار سینٹ آگسٹین (304-430ء) نے یونانی منطق کے زور پر، نہ کہ حضرت مسیح کی تعلیمات کے زور پر، اس عقیدہ کو ایک بنیادی مسیحی عقیدہ کے طور پر مسیحیت میں داخل کر دیا۔ اس عقیدہ کا خلاصہ یہ تھا کہ آدم نے شجر ممنوعہ کا پھل کھا کر جو گناہ کیا تھا وہ گناہ انہیں پر ختم نہیں ہوا بلکہ پوری نسل انسانی نے اس کا وبال وراثت میں پایا ہے۔ اور اب انسان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ مسیح کے کفارہ کے ذریعہ نجات حاصل کرے۔
مولانا شبیر احمد عثمانی سورہ النجم کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں:
”انبیاء علیہم السلام آسمان نبوت کے ستارے ہیں جن کی روشنی اور رفتار سے دنیا کی رہنمائی ہوتی
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues