Al-Risala · November 2024 · page 37

19 جون 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۷

ہے۔ اور جس طرح تمام ستاروں کے غائب ہونے کے بعد آفتاب درخشاں طلوع ہوتا ہے ایسے ہی تمام انبیاء کی تشریف آوری کے بعد آفتاب محمدی مطلع عرب سے طلوع ہوا۔ ‘‘(صفحہ 682) تمثیل کے ذریعہ استدلال کتنا غلط ہوتا ہے، اس کی ایک مثال مذکورہ بالا اقتباس ہے۔ علم افلاک کی رو سے ستارے کبھی غائب نہیں ہوتے، بلکہ ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ اسی طرح آفتاب سب سے بڑا اور درخشاں نہیں ہے۔ اس سے بہت زیادہ بڑے اور درخشاں ستارے آسمان میں موجود ہیں۔ استدلال ہمیشہ واقعات و حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ تمثیلات کی بنیاد پر۔ کسی نے صحیح کہا ہے: “Analogy is the weakest form of argument.”

19 جون 1986

کونسل فار دی ورلڈ ز ریلیجنز (نیو یارک) کے تحت بنگلور میں ایک مختلف مذاہب کا کانفرنس ہوئی۔ اس کی تاریخ 26-30 جون 1986 ہے۔ اس کانفرنس میں مجھے بھی مدعو کیا گیا ہے۔ کانفرنس کے لیے میرے پیپر کا عنوان ہے:

Missionary Ethics

تفصیلی پروگرام کے مطابق اس کانفرنس میں مجھے ڈاکٹر راجندر ورما کے پیپر کا respondent بنایا گیا تھا۔ ڈاکٹر ورما آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ہیں۔ اور آج کل دہلی میں رہتے ہیں۔ کل ان کا ٹیلی فون آیا۔ میں نے کہا کہ میرا ٹکٹ تو آ گیا ہے، مگر میرا ارادہ بنگلور جانے کا نہیں ہے۔ ڈاکٹر ورما نے کہا کہ آپ کو ضرور چلنا چاہیے۔ اس کے بعد آج صبح 10 بجے وہ خود ہمارے دفتر (نظام الدین) میں آئے۔ اس سلسلہ میں بڑا عجیب واقعہ ہوا۔ کل جب ڈاکٹر ورما کا ٹیلی فون آیا تو میں بالکل نہیں جانتا تھا کہ ڈاکٹر ورما کون ہیں۔ مگر ٹیلی فون کی مختصر گفتگو کے بعد میرا ذہن اچانک ایک شخص کی طرف چلا گیا جن سے میں سات مہینے پہلے ملا تھا۔

نیو یارک جاتے ہوئے ممبئی ایئر پورٹ پر ایک صاحب سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ یہ 14 نومبر 1985 کا واقعہ ہے۔ یہ ملاقات بس ایئر پورٹ پر چلتے ہوئے ایک دومنٹ کی تھی۔ ان کے چہرے کا ایک عکس میرے ذہن میں تھا۔ ٹیلی فون کی گفتگو کے بعد اچانک میرے دل نے کہا کہ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues

Printed page