Al-Risala · November 2024 · page 38

20 جون 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۸

وہی شخص ہیں جن سے بمبئی ایئر پورٹ پر تھوڑی دیر کے لیے ملاقات ہوئی تھی۔ وجدانی طور پر میں نے ٹیلی فون کی آواز میں اور ایئر پورٹ پر دیکھے ہوئے چہرہ میں ایک مشابہت محسوس کی۔ آج صبح دس بجے جب وہ میرے دفتر میں داخل ہوئے تو معلوم ہوا کہ ٹیلی فون پر بولنے والی آواز عین انہیں صاحب کی تھی جن کو میں نے سات ماہ پہلے بمبئی ایئر پورٹ پر دیکھا تھا۔ اللہ نے دماغ کو بھی کیسا عجیب کمپیوٹر بنایا ہے۔

20 جون 1986

جناب نسیم علی خاں صاحب سے آج دفتر میں ملاقات ہوئی۔ وہ بمبئی میں رہتے ہیں۔ ان سے میں نے بتایا کہ بمبئی کے ایک صاحب کا خط تقریباً چھ ماہ پہلے آیا تھا۔ اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ انگریزی الرسالہ زبان و بیان کی خوبیوں سے یکسر محروم ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے انگریزی الرسالہ کی خریداری بھی بند کردی۔

ان کو میں نے لکھا کہ آپ مثال کے ذریعہ اپنی بات کو واضح فرمائیں۔ یعنی انگریزی الرسالہ کا کوئی مطبوعہ پیرا گراف لے کر نشان دہی کریں کہ اس میں زبان کی یا بیان کی کون سی خرابی ہے۔ مگر ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔ اس دوران میں یاد دہانی کے کئی خطوط لکھے گئے، مگر ابھی تک جواب سے محرومی ہے۔ نسیم علی خاں صاحب نے بتایا کہ میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں اور اس خط و کتابت سے بھی واقف ہوں۔ قصہ یہ ہے کہ آپ کا خط ملنے کے بعد انہوں نے انگریزی الرسالہ کا ایک پرچہ آر ایس ایس کے بمبئی یونٹ کے سکریٹری کو دیا اور کہا کہ اس کو پڑھ کر اس پر بھر پور تنقید کریں۔ آر ایس ایس کے سکریٹری نے پرچے کو پڑھا اور اس کے بعد اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا: ”الرسالہ کی لینگویج فرسٹ کلاس ہے۔ اس کے آرٹیکل بھی بہت اچھے ہیں۔ مجھے تو اس میں کوئی کمی نظر نہیں آئی جس پر میں کریٹیسائز کروں“۔

مذکورہ سکریٹری (آر ایس ایس) بہت اچھے اور مانے ہوئے انگریزی داں ہیں۔ ان کے اس تبصرے کے بعد اب ان کے پاس کہنے کی کوئی بات ہی نہیں رہی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues

Printed page