Al-Risala · November 2024 · page 39

20 جون 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۹

میں نے نسیم علی خاں صاحب سے کہا کہ ان کو میرا یہ پیغام پہنچا دیں کہ اب آپ کا چپ ہونا سراسر بزدلی ہے۔ آپ کو بہادری والا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ تحریری طور پر مذکورہ سکریٹری کا واقعہ لکھیں اور کھلے لفظوں میں اعتراف کریں کہ مجھ سے غلطی ہوئی۔ پھر میں نے نسیم علی خاں صاحب سے کہا کہ بہادری (الحماسہ) انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ جس آدمی کے اندر بہادری ہوگی ، اس کے اندر بقیہ صفتیں اپنے آپ ہوں گی اور جس شخص کے اندر بہادری نہیں ہوگی ، اس کے بعد وہ تمام اعلیٰ اوصاف سے بھی محروم ہوگا۔ 22 جون 1986 ابوظبی (یو اے ای) سے ایک عربی ماہنامہ نکلتا ہے۔ اس کا نام ہے: المنار۔ اس کی اشاعت جنوری 1986 (ربیع الآخر 1406ھ) میں صفحہ 23 پر ایک مضمون ہے۔ اس مضمون میں اس کے عرب مضمون نگار نے لکھا ہے: اَلمُسْلِمُونَ الَّذِيْنَ يُجِيْدُونَ القَوْلَ وَلاَ يُحْسِنُوْنَ العَمَلَ أَكْثَرُ ضَرَرًا عَلَى الإِسْلَامِ مِنْ أَعْدَائِهِ (جو مسلمان اچھی باتیں کرتے ہیں ، مگر ان کا عمل اچھا نہیں ہے، وہ اسلام کے لیے اس سے بھی زیادہ مضر ہیں جتنا کہ اس کے دشمن)۔

مضمون نگار نے اپنے مضمون میں درج ذیل حدیث نقل کی ہے: اِنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ اِذَا عَمِلَ أَحَدُکُمُ عَمَلاً أَنْ يُتْقِنَهُ (مسند ابی یعلیٰ، حدیث نمبر 4386)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس کو پسند فرماتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جب ایک کام کرے تو وہ اس کو بہترین طور پر کرے۔

جب اللہ کی پسند یہ ہے کہ آدمی اپنے کام میں اپنی اعلیٰ ترین صلاحیت استعمال کرے اور وہ اس کو بہتر سے بہتر انجام دے تو اللہ اس کو کیسے پسند کر سکتا ہے کہ آدمی کے قول و فعل میں مطابقت نہ ہو۔ وہ کہنے کے لیے اچھی اچھی باتیں کہے، مگر جب کرنا ہو تو نہ کرے۔

عمل میں قول کی مطابقت پہلا درجہ ہے اور عمل میں خوبی اس کے آگے کا درجہ۔ جب اللہ کو یہ گوارا نہیں کہ آدمی اچھا عمل کرنے میں کوتاہی کرے تو اللہ کو یہ کیسے گوارا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے قول اور اپنے عمل میں مطابقت نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues

Printed page