20 جون 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۰
ایک انٹرویو (دوسری قسط)
سوال: مولانا، ہماری دینی جماعتوں نے تعمیر کردار، تطہیر افکار اور تطهیر سیاست کا کام ایک ساتھ شروع کیا ہوا ہے اور ان تین کاموں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ آپ کے خیال میں یہ جماعتیں اس کام میں کس حد تک کامیاب ہوئیں؟
جواب: میرا خیال ہے کہ تعمیر افراد کا کام ان جماعتوں سے نہیں ہوسکا۔ دیکھئے، جب آپ کوئی تحریک اٹھاتے ہیں تو دیکھنا یہ بھی ہوتا ہے کہ main thrust کس چیز پر ہے۔ اگر مین تھرسٹ اپنی ذات پر ہے تو احتساب ذات کا جذبہ ابھرے گا اور اگر مین تھرسٹ خارج پر ہے تو احتساب نظام کا جذبہ ابھرے گا۔ جہاں احتساب نظام کا جذبہ ابھرے گا، وہاں اصلاح ذات کا کام نہیں ہوسکتا۔ ان جماعتوں کا مین تھرسٹ نظام پر تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اصلاح ذات اصل کنسرن کی حیثیت سے عملاً حذف ہوگیا۔ اصل بات یہ ہے کہ آدمی جس قسم کی تعبیر دین سے متاثر ہوگا وہ ہر مسئلہ کو اسی رنگ میں دیکھے گا۔ سیاست دین کا ایک جزءء ہے، مگر وہ مرکزی جز نہیں لیکن اگر آپ اس کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر مرکزی جگہ رکھ دیں اور دین کی ایسی تشریح کریں کہ سیاسی انقلاب ہی اسلامی تحریک کا آخری مقصود نظر آنے لگے تو یقینی طور پر آپ کے سوچنے کا انداز بدل جائے گا۔ جماعت اسلامی کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ اب جو لوگ اس کی پیروی کر رہے ہیں ان کا انجام بھی وہی ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ اللہ نے انسان کے دو دل نہیں بنائے۔ مطلب یہ کہ انسان بیک وقت دو چیزوں پر فوکس نہیں کر سکتا۔ ایک طالب علم یا تو ڈاکٹر بن سکتا ہے یا دادا گیری کر سکتا ہے۔ احتساب نظام بھی ہوا اور احتساب خویش بھی۔ یہ ہو نہیں سکتا۔ یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے اور انسانی فطرت سے ٹکراؤ مول لے کر آپ کام نہیں کر سکتے۔ سوال: لیکن مولانا، جن جماعتوں نے تعمیر افراد اور احتساب ذات کے کام پر ہی توجہ رکھی اور احتساب نظام سے کامل علیحدگی اختیار کرلی، ان کے اثرات بھی معاشرے پر محدود ہی ہیں۔ جیسا کہ تبلیغی جماعت نے فرد کی تعمیر کو اپنا مقصود قرار دیا ہے اور امور سیاست سے بالکل کٹ گئی ہے؟
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues