20 جون 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۱
جواب: دراصل یہ تحریک جس کا آپ نے ذکر کیا خوش عقیدگی کی بنیاد پر اٹھی ہے۔ اس کا لٹریچر فضائل تک محدود ہے۔ اب خوش عقیدگی ایک چیز ہے اور فکری تبدیلی دوسری چیز۔ یہ خوش عقیدگی نہیں تو کیا ہے کہ مسواک کرو تو جنت مل جائے گی۔ اس طرح کے انداز کار سے فکری تبدیلی نہیں آتی اور نہ معاشرے پر دیر پا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
قرآن وسنت کے مطالعے سے دین کا جو مطلب میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ دین کے تقاضے دو قسم کے ہیں۔ ایک تقاضا دین کی اصل اور روح ہے، وہ ہے اللہ کی معرفت اور اس سے خشیت اور محبت کا تعلق۔ اس کے اوپر اعتماد، اس کی عبادت اور معاملات زندگی میں اس کی تابعداری۔ دوسرا تقاضا وہ ہے جو مادی دنیا اور دین کے تصادم سے پیدا ہوتا ہے۔ دین کو فکری اور عملی طور پر سر بلند رکھنے کے لیے مختلف صورتیں پیش آتی ہیں اور موقع کے اعتبار سے ہر جگہ مومن کو ان سے نپٹنا پڑتا ہے۔ کہیں رکانہ (بن عبد یزید) سے کشتی لڑنی پڑتی ہے، کہیں حسان بن ثابت کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ بذریعہ اشعار مخالفین کا جواب دیا جائے کہیں عقل کو مطمئن کرنے کے لیے وقتی اسلوب میں حجت ابراہیمی پیش کرنی ہوتی ہے، کہیں بدر و حنین کے معرکے درپیش ہوتے ہیں، کہیں غیر مسلموں سے معاہدہ کرنا پڑتا ہے، وغیرہ، وغیرہ۔ جہاں تک پہلے تقاضے کا تعلق ہے وہ دین کی اصل ہے اور دائمی طور پر دین کے مطلوب کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر دوسری چیز کی یہ حیثیت نہیں۔ وہ دین کا اضافی جزء ہے، نہ کہ حقیقی۔ جس وقت اس طرح کے تقاضے بروئے کار آ چکے ہوں، اس وقت یہ اضافی جزء بھی حقیقی جزء کی طرح مطلوب قرار پاتا ہے۔ مگر جب حالات نے اس کی ضرورت پیدا نہ کی ہو اس وقت مومن کے اوپر اس طرح کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ تبلیغ دین کا کام ایک ایک فرد میں حقیقت دین کو زندہ کرنے کی کوشش ہے۔ یہ بات میں تبلیغ کی اصل یعنی دعوت کے اعتبار سے کہہ رہا ہوں، نہ کہ اس کے مخصوص طریق کار کے اعتبار سے۔ کیونکہ طریق کار خواہ وہ کسی جماعت یا تحریک کا ہو، ہمیشہ اضافی ہوتا ہے۔ لیکن تبلیغ کی ساری اہمیت کو تسلیم کرنے کے بعد بھی دین کے لیے کچھ اور کرنے کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ اس دوسرے میدان میں امت کے دوسرے موزوں افراد کو جد وجہد کرنی چاہیے اور خود تبلیغ کرنے والوں کو اخلاص کی شرط کے ساتھ ان کی کوشش کو تسلیم کرنا چاہئے اور انفرادی طور پر اس میں حصہ لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مثال کے طور پر بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہم کو یہ چیلنج درپیش ہے کہ مغربی افکار کے حملہ کو
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues