پاکستان کی تقدیر بے نظیر بے نظیر
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۳۹
ایک نوجوان ملنے کے لیے آئے ، جن کا نام پتہ یہ ہے :
Suhrab Alam Aftab Book Depot, Sabzi Bagh, Patna-4 انہوں نے بتایا کہ میری زندگی اس سے پہلے بہت زیادہ غلط تھی۔ لوگ مجھ سے نفرت کرتے تھے ۔ اس کے بعد مجھے آپ کی کتاب ’’ انسان اپنے آپ کو پہچان‘‘ ملی۔ اس کو پڑھ کر میری زندگی بالکل بدل گئی۔ اس کے بعد میں نے آپ کی ساری کتابیں پڑھ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ پیغمبر انقلاب‘‘ میں آپ نے جو منتخب حدیثیں لکھی ہیں ان کو میں نے پڑھا ۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں بالکل نئی حدیثیں پڑھ رہا ہوں، ایسی حدیثیں جن کو میں نے کبھی پڑھا نہیں تھا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی کہانی ابھی تک ان کہی کہانی (untold story) بنی ہوئی ہے۔ 21 اپریل 1986ء کو بھوپال میں میری ایک تقریر تھی، جس میں کثرت سے ہندو صاحبان موجود تھے۔ اس موقع پر میں نے کہا کہ 1962ء کی ہند - چین جنگ کے بعد حکومت کی طرف سے بہت سے بیانات اور دستاویزیں شائع ہوئے۔ اس کے بعد ہندوستانی فوج کے ریٹائرڈ لفٹننٹ جنرل مسٹر برج موہن کول (وفات 1972ء) نے اعلان کیا کہ ہند - چین کی کہانی کا اصل باب ابھی غیر بیان شدہ پڑا ہوا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے ۔ ان کہی کہانی : “The Untold Story, Allied Publishers, 1967”
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں بھی آج آپ کو اسلام کی Untold Story سنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد میں نے وہ حدیثیں سنائیں جن کا تعلق توحید، اخلاق، عدل، مساوات انسانی اور دوسرے امورِ خیر سے ہے۔ ہندو مسلم دونوں بہت متاثر ہوئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی صدر مسٹر سارنگ نے تقریر کے بعد کھڑے ہو کر کہا کہ یہ تو وہ اسلام ہے جو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کو اختیار کر لینا چاہیے ۔ ایک صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ اسلام کے تعارف پر اسی انداز پر ایک کتاب تیار کی جائے اور اس کا نام Untold Story ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues