Al-Risala · November 2024 · page 42

20 جون 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۲

روکا جائے اور عملی طور پر دین کی مدافعت کی جائے۔ پھر یہ کہ جدید دنیا میں مسلمانوں کو عزت اور سربلندی کا مقام دلانے کی تدبیریں کی جائیں، جدید ضرورتوں کے مطابق اسلامی قانون کی تدوین کی جائے، موجودہ حالات کے اعتبار سے مسلمانوں کا ایک نیا نظام مرتب کیا جائے، جمہوریت اور سیکولرزم سے وقتی طور پر پیدا شدہ مسائل کا حل تلاش کیا جائے، جدید ذہن کے لحاظ سے اسلام کا دعوتی لٹریچر تیار کیا جائے۔ یہ سارے کام کوئی ایک شخص یا گروہ اکیلا سر انجام نہیں دے سکتا۔ یہ ممکن ہے کہ ہر ایک دوسرے کو تسلیم کرے اور ایک دوسرے سے مشورہ کرے اور کم از کم انفرادی سطح پر ایک دوسرے سے تعاون کرے۔ اس قسم کا تبلیغی کام جو موجودہ دور میں تبلیغی جماعت کر رہی ہے، کافی نہیں۔ میرا اعتراض یہ ہے کہ خوش عقیدگی ہی کو تبلیغ کا مقصد قرار نہ دیا جائے، اس لیے کہ اس سے فکری تبدیلی کی راہ ہموار نہیں ہوسکتی۔ سوال: بعض اصحابِ فکر کا خیال ہے کہ انبیائے کرام کے بعد دعوتی، علمی اور سیاسی کام کسی ایک شخصیت میں نہ جمع ہوا ہے اور نہ ہوسکتا ہے اور یہ کہ صحابہ کرام نے تقسیم کار کے اصول ہی کو اختیار کیا۔ اب بھی تقسیم کار کا اصول اختیار کر کے دینی کام میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔ یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اس معاملہ میں انبیائے کرام کی تقلید نہیں کی جاسکتی کہ ان کے خیال میں ان کی ذات میں یہ سارے کام جمع ہو گئے تھے۔ کیا تقسیم کار کی اس تعبیر سے آپ اتفاق کرتے ہیں؟

جواب: تقسیم کار کے اصول سے مجھے اصولی طور پر اتفاق ہے، لیکن تقسیم کار کس چیز میں، اس میں نہیں کہ تم دعوت کا کام کرو، تم انقلاب کا کام کرو، تم جا کر ان کو گولی مارنے کا کام کرو اور میں پڑھاتا ہوں، وغیرہ۔ یہ تقسیم کار نہیں، مقصد کو فوت کرنے کے ہم معنی ہے۔ بلکہ مرحلہ اول میں جس چیز کی ضرورت ہے اس میں تقسیم کا اصول اختیار کیا جائے۔ جیسے فکری انقلاب لانا ہے تو فکری کام میں تقسیم کار ہوگی۔ کچھ لوگ تحقیق کا کام کریں، کچھ اخبار نکالیں، کچھ لائبریریاں قائم کریں، وغیرہ وغیرہ۔ سوال: آپ کا خیال ہے کہ مرحلہ اول میں جو کام درکار ہیں ان میں تدریج کار ہے، ان میں تقسیم کار نہیں؟

جواب: جی ہاں، تدریج کار ہے۔ انبیائے کرام نے بھی اس طرح کی تقسیم کار کے مطابق کام نہیں کیا، بلکہ تدریج کار کے مطابق کام کیا ہے۔ یہ واقعہ کے خلاف ہے کہ انبیائے کرام نے بیک وقت تمام کام کیے ۔ اس کا ثبوت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ملتا ہے۔ مکہ میں صرف نظریہ کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues

Printed page