20 جون 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۵
کرے لیکن جماعت کے اس جدوجہد کے پیچھے جو فلسفہ ہے، وہ صحیح نہیں۔ مجھے امید نہیں کہ ان کی یہ جدوجہد کامیاب ہوگی۔ اور اگر کامیاب ہو بھی گئی تو کردار کی کمزوری بہت جلد اس کو ناکامی میں بدل دے گی۔ پاکستان میں جماعت اسلامی کی حکومت کا وہی حشر ہوگا جو کیرلا میں کبھی کمیونسٹ وزارت کا ہوا تھا۔ پاکستان میں جماعت اسلامی کے طریق کار سے مجھے یہ اختلاف ہے کہ اس نے تدریج کار کا خیال نہیں رکھا۔ یہ تدریج کے اصول کے خلاف ہے کہ پہلے مرحلے میں ہی حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ الٹا اہرام تعمیر کرنے کے مترادف ہے جو نہ کبھی بنا ہے اور نہ بن سکتا ہے؟ سوال: مولانا، آئے روز ہندوستان سے فرقہ وارانہ فسادات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ آپ بتائیں گے کہ وہاں ان فسادات کا حقیقی سبب کیا ہے؟ اور یہ کہ وہاں کے مسلمانوں کے لیے نجات کی راہ کیا ہے؟ جواب: ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد دس بارہ کروڑ ہے۔ تاریخ میں کوئی مثال نہیں کہ اتنی بڑی تعداد کو ظلم اور فساد کے ذریعے مٹا دیا گیا ہو۔ اس کے برعکس، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے فساد مسلمانوں کی زندگی کی سب سے بڑی ضمانت ہیں۔ کیونکہ یہ ایک ایسی دنیا ہے کہ جہاں دبنے کے بعد زیادہ ابھرنے کا اصول رائج ہے۔ ایسے لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ قانون قدرت ان کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تہذیبوں کو وجود میں لانے والی ہمیشہ وہ قومیں تھیں، جو شکست اور محرومی سے دوچار کی گئیں۔ ۔ مثال کے طور پر مغرب کی مسیحی قوتیں صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد جدید صنعتی تہذیب کی خالق بنیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کو محرومی اور شکست میں مبتلا کر کے ان کے خاتمے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے نتیجے کا انتظار کر رہے ہیں جو قانونِ قدرت کے مطابق ان کے اندازوں کے سراسر خلاف، بلکہ برعکس صورت میں ظاہر ہونے والا ہے۔
سوال: سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے اب نجات کی راہ کیا ہے؟
جواب: ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا سبب خواہ کچھ بھی ہو، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ فسادات اگر بند ہوں گے تو صرف اس وقت ہوں گے جب مسلمان اپنے حصے کا فساد بند کر دیں گے۔ مسلمان اپنے حصے کا سبب ختم کر کے دوسروں کو آمادہ کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے حصے کا سبب ختم کر دیں۔ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات صرف یک طرفہ کارروائی سے ختم ہوسکتے ہیں اور یہ یک طرفہ کارروائی بہر حال مسلمانوں کو کرنا ہوگی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں یک طرفہ طور پر راضی ہو کر قریش کی فساد انگیز یوں کا
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues