20 جون 1986
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۶
سلسلہ ختم کروادیا۔ اسی طرح ہمیں بھی یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو پابند بنانا ہے۔ اگر ہم دوسرے فریق کی طرف سے بندش کی کارروائی کا انتظار کریں گے تو ایسا انتظار کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ سوال: مسلمان فسادات کو ختم کرنے کے لیے کیا کریں؟
جواب: مسلمان فساد کو ختم کرنے کے لیے یہ کریں کہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ تمام فسادات کا مشترک سبب یہ ہے کہ مسلمان اس راز کو نہیں جانتے کہ زندگی میں کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ اب جس چیز کو نظر انداز کرنا چاہیے اس پر مسلمان بھڑک اٹھتے ہیں اور اس کا لازمی نتیجہ فساد ہے۔
پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا سبب کیا ہے؟ کیوں کراچی میں فساد برپا ہوتا ہے؟ کیوں کوئٹہ میں شیعہ سنی تصادم ہوتا ہے؟ کیوں پنجابی سندھی ٹکراؤ ہوتا ہے؟ اس لیے کہ ہر ماحول میں کچھ چیزیں ایسی پائی جاتی ہیں جن سے الجھنے کے بجائے ان کو نظر انداز کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ان سے الجھنا ان کو اور بڑھانے کے ہم معنی ہے۔ یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اسی لیے قرآن میں صبر اور اعراض کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔
نظر انداز کر دینے والی باتوں کو نظر انداز نہ کرنا وہ غلطی ہے جس میں ہندوستان کے مسلمان بھی مبتلا ہیں اور پاکستان کے مسلمان بھی۔ اس کی قیمت دونوں جگہ کے مسلمان شدید ترین صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمان فرقہ وارانہ فسادات کی صورت میں اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور پاکستان کے مسلمان غیر مستحکم سیاسی نظام کی صورت میں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے فسادات کا واحد حل ”اعراض“ ہے۔ مسلمان اس ”اعراض“ کو استعمال کریں گے تو ایک دن میں تمام فسادات بند ہو جائیں گے۔ اگر مسلمان اس طریقہ پر راضی نہ ہوں گے تو موجودہ تدبیروں سے آئندہ پچاس سال تک بھی فسادات بند نہ ہوں گے، جس طرح گزشتہ پچاس سال میں اس قسم کی تدبیروں کے باوجود فسادات بند نہیں ہوئے۔ پھر یہ کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات پر جب کوئی مسلمان بات کرتا ہے تو وہ ہمیشہ ایک ہی چیز کی کوشش کرتا ہے کہ خالص قانونی اور منطقی جائزہ لے کر یہ دیکھتا ہے کہ کون سا فریق حق پر ہے اور کون ناحق پر۔ یہ طریقہ سراسر غلط ہے، کیونکہ بعض امور وہ ہوتے ہیں، جن میں حق اور ناحق کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا عملی حل کیا ہے۔ حدیبیہ کے مقام پر جب مسلمانوں اور قریش
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues