آئیڈیل وزڈم ، پریکٹیکل وزڈم
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۷
کے درمیان صلح کا معاہدہ لکھا جا رہا تھا تو آپ نے اس کا مضمون املا کراتے ہوئے کاتب سے کہا: لکھو یہ وہ ہے جس پر اللہ کے رسول نے صلح کیا (هٰذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ رَسُولُ اللَّهِ) ۔ قریش کے نمائندے نے کہا: ہرگز نہیں، اگر ہم آپ کو رسول مانتے تو جھگڑا کیا تھا۔ صرف محمد بن عبد اللہ لکھو۔ آپ نے فوراً کاتب سے کہا: محمد بن عبد اللہ لکھ دو۔ اگر آپ اس کو حق اور ناحق کا معاملہ بناتے تو کبھی اس معاملے کو ماننے پر رضا مند نہ ہوتے، خواہ سارے مسلمان وہیں کٹ کر مرجاتے ۔ مگر آپ نے عملی پہلو دیکھا۔ کیونکہ اس وقت عملاً اس کے سوا کوئی حل نہ تھا۔ اس لیے آپ محمد رسول اللہ کا لفظ چھوڑ کر صرف محمد بن عبداللہ لکھنے پر راضی ہو گئے ۔ (جاری)
آئیڈیل وزڈم ، پریکٹیکل وزڈم
پیغمبر اسلام ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر میں تھے۔ آپ کو یہ خبر ملی کہ راستے میں دوسری طرف سے مکہ کے خالد بن الولید آپ سے مقابلہ کرنے کے ارادے سے ایک مسلح دستہ لے کر آ رہے ہیں۔ اس وقت آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم میں سے کون ہے جو ہم لوگوں کو کسی اور راستے سے لے جائے جس پر ان سے ٹکراؤ نہ ہو (مَنْ رَجُلٌ يَخْرُجُ بِنَا عَلَىٰ طَرِيقِ غَيْرِ طَرِيقِهِمُ الَّتِي هُمْ بِهَا؟ ) ۔ ایک آدمی نے کہا کہ میں ۔ چنانچہ آپ نے اس وقت اپنے سفر کا راستہ بدل دیا ( سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 309 ) ۔ اس کی وجہ سے آپ کے ساتھیوں اور خالد کے ساتھیوں میں مڈبھیڑ نہیں ہوئی ، اور آپ وہاں پہنچ گئے جہاں آپ کو جانا تھا۔
اس طریقہ کو ایک لفظ میں پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کہہ سکتے ہیں ۔ آپ کی زندگی کے واقعات کہتے ہیں کہ آپ نے ہمیشہ ایسا کیا کہ آپ نے آئیڈیل وزڈم کو چھوڑا ، اور پریکٹیکل وزڈم کو اختیار کیا۔ آپ کو اپنے مشن میں جو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ، اس کا سبب یقینی طور پر یہی پریکٹیکل وزڈم ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ آئیڈیل وزڈم نتیجہ کے اعتبار سے بے فائدہ ٹکراؤ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس، پریکٹیکل وزڈم غیر ضروری نقصان سے بچا کر کامیابی کی منزل تک پہنچادیتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues