پاکستان کی تقدیر بے نظیر بے نظیر
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۴۰
امریکہ کے لیے لیبیا کے معمر قذافی کی دہشت پسندی‘‘ پریشانی کا سبب بنی ہوئی تھی۔ امریکہ کے صدر ریگن نے اس کے خلاف بار بار وارننگ دی اور پھر اپریل 1986 میں طرابلس پر حملہ کر دیا۔ اس حملہ میں معمر قذافی کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہوائی بمباری سے کافی نقصان ہوا۔ تاہم معمر قذافی بچنے میں کامیاب ہو گئے۔
اس کے فوراََ بعد معمر قذافی ساری دنیا کے اخبارات میں صفحہ اول پر چھپ رہے تھے۔ ملک کے اندر اور ملک کے باہر ان کی امیج کافی بڑھ گئی۔ امریکہ اپنے مقصد میں نا کام رہا اور معمر قذافی اپنے مقصد میں کامیاب۔ امریکہ کے سابق صدر جی کارٹر (پیدائش 1942ء) نے لیبیا پر امریکی بمباری کو ایک غلطی (mistake) قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ:
“Col. Gaddafi was an outcaste. Now he is a hero.”
(Times of India, 20 April 1986)
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی کے خلاف عملی اقدام ایک بے حد نازک معاملہ ہے۔ اس کو حد درجہ سوچے سمجھے فیصلے کے تحت ہونا چاہیے۔ اگر ناقص اندازہ کی بنیاد پر اقدام کیا گیا تو وہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوگا۔ یعنی اس کا نتیجہ اس کے برعکس نکلے گا جو اقدام کرنے والے نے بطور خود اپنے ذہن میں فرض کر لیا تھا۔ خواہ اقدام کرنے والا امریکہ جیسا طاقتور ملک ہی کیوں نہ ہو اور جس کے خلاف اقدام کیا گیا ہے وہ لیبیا جیسا کمزور ملک۔ 25 اپریل 1986 پاکستان کے ایک اخبار میں ایک کتاب’’ قادیانیوں سے خطاب‘‘ کا اشتہار نظر سے گزرا۔ اس اشتہار کے الفاظ یہ ہیں:
انسدادِ قادیانیت آرڈیننس کے بعد قادیانی اب پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دیے جا چکے ہیں تو اب پاکستانی مسلمانوں پر یہ فرض پہلے سے بھی زیادہ شدت سے عائد ہوتا ہے کہ قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ اور قادیانی دجل کا پردہ چاک کریں۔ اسی فرض کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کتاب تیار کی گئی ہے۔ اس کو فی الفور منگوا کر اپنے حلقہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues