Al-Risala · January 2024 · page 41

26 اپریل 1986

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۴۱

کے قادیانیوں میں تقسیم کر کے ایک اہم دینی فریضہ پورا کریں ‘‘۔ (ہفت روزہ المنبر، فیصل آباد، 15 مارچ 1986)

مسلمان موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کا نام لیتے ہیں ، مگر ان کے اکابر تک اس سے بے خبر ہیں کہ اسلامی دعوت حقیقتاً کیا ہے۔ وہ ’’ اسلامی دعوت ‘‘ کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ ’’غیر مسلموں کے دجل یعنی سازش کا پردہ چاک ‘‘ کیا جائے۔ حالانکہ اس قسم کے معاملہ کا اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہے یہ لفظی کشتی ہے، نہ کہ اسلامی دعوت۔

اسلامی دعوت سراسر ایک خیر خواہی کا عمل ہے۔ اس کا سر چشمہ داعی کا یہ درد ہے کہ وہ ایک بھٹکے ہوئے انسان کو راہ راست پر لے آئے۔ یہ اپنی حیثیت کے اعتبار سے محبت کا عمل ہے، نہ کہ نفرت اور تحقیر کا عمل۔ لوگ دعوت اور مناظرہ بازی میں فرق نہیں کرتے، اس لیے وہ ایسے الفاظ بولتے ہیں، جس کا ایک نمونہ اوپر کے اقتباس میں نظر آتا ہے۔

26 اپریل 1986

مولانا کبیر الدین فاران ( ہماچل پر دیش ) سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ذہین آدمی ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میرے اندر تنقیدی مزاج ہے۔ مجھے کسی رائے سے اختلاف ہوتا ہے تو میں فوراً اس کا اظہار کر دیتا ہوں۔

میں نے کہا کہ یہ مزاج بذات خود صحیح مزاج ہے۔ مگر مسلمان عام طور پر ’’ اختلاف رائے ‘‘ اور ’’ اختلاف امر ‘‘ میں فرق نہیں کرتے۔ اختلاف رائے یعنی سوچ کا فرق اور اختلاف امر یعنی عملی مخالفت ۔ میرے نزدیک اختلاف رائے ایک جائز عمل ہے، مگر اختلاف امر بالکل نا جائز ہے۔ اختلاف رائے اور اختلاف امر میں فرق کی مثالیں اصحاب رسول کے یہاں بھی موجود ہیں۔ حضرت عثمان کے زمانے میں صحابی رسول ابو ذر رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے۔ وہاں ان کو معلوم ہوا کہ خلیفہ ثالث عثمان رضی اللہ عنہ نے یہاں چار رکعتیں پڑھی ہیں۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے سخت الفاظ میں اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا ہوں۔ آپ نے صرف دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر ابو بکر و عمر کے ساتھ بھی میں نے دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد ابو ذر رضی اللہ عنہ اٹھے اور چار رکعت نماز ادا کی۔ لوگوں نے کہا: آپ نے امیر المومنین پر

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page