مولا شدن از عبید بیاموز
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۴۲
چار رکعت کے لیے اعتراض کیا اور خود وہی کر رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا: اِلْخِلَافُ أَشَدُّ (مسند احمد، حدیث نمبر 21460)۔ یعنی عملی مخالفت اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ اسی قسم کا واقعہ مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بھی ہے۔ انھوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے منی میں چار رکعت پڑھنے پر بہت ہی سخت الفاظ میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور پھر خود چار رکعت پڑھی۔ جب پوچھا گیا تو فرمایا: اختلاف کرنا برا ہے (اِلْخِلَافُ شَرٌّ) سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 1962۔ اس کے برعکس، مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں رائے کے معاملہ میں اختلاف ہو جائے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ امر اور نظم (system) سے اختلاف کرنا بھی ان کے لیے درست ہے۔ اسی کمزوری کی وجہ سے مسلمانوں سے کوئی متحدہ کام نہیں ہو پاتا۔ حدیث اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةً (المقاصد الحسنہ للسخاوی، حدیث نمبر 39) کا مطلب بھی یہی ہے۔ یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ اس حدیث میں اختلافی رائے کے اظہار کو رحمت کہا گیا ہے، نہ کہ عملی اختلاف و انتشار کو۔ افراد کو ہر کام میں اجتماعی نظم کا پابند رہنا چاہیے۔ البتہ اختلاف رائے کو مثبت طریقے سے ظاہر کرنے کے معاملہ میں ان پر کوئی پابندی نہیں۔ انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ کسی بھی شخص سے رائے کے معاملہ میں اختلاف کر سکتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔ 27 اپریل 1986 مولانا حکیم بشیر حسن انصاری (محبوب نگر) مرکز میں تشریف لائے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے ایک لطیفہ بیان کیا۔
کہا جاتا ہے کہ ایک نواب صاحب تھے، جن کا نام عبید تھا۔ ایک روز نواب عبید اپنی شان وشوکت کے ساتھ نکلے۔ ان کے جلوس میں ان کے خادم بھی زرق برق گھوڑوں پر سوار ہو کر چل رہے تھے۔ خادموں کا حلیہ بتا رہا تھا کہ نواب نے اپنے خادموں پر بڑی عنایات کی ہیں۔ ایک غریب شخص نے اس منظر کو دیکھا تو اپنے اور ان خادموں کے فرق کو دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوا۔ وہ خدا سے کہہ اٹھا:
مولا شدن از عبید بیاموز
یعنی عبید نے اپنے خادموں کو کس طرح نواز رکھا ہے۔ اور آپ میرے مولا ہیں اور میں آپ کا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues