Al-Risala · January 2024 · page 43

بندہ شدن از بندگان عبید بیاموز

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۴۳

خادم ہوں ۔ مگر میں آپ کی نوازش سے محروم ہوں، ہوں،’’مولابننا آپ عبید سے سیکھیے۔ " کچھ عرصہ بعد ایسا ہوا کہ نواب عبید اپنے خادموں سے کسی بات پر ناراض ہو گئے۔ اور حکم دے دیا کہ ان کو کوڑے مارے جائیں۔ مذکورہ غریب شخص دوبارہ ادھر سے گزرا۔ اس نے دیکھا کہ خادموں پر کوڑے پڑ رہے ہیں۔ مگر وہ سب "عبید، عبید پکار رہے ہیں۔ وہ جس سے مار کھارہے ہیں، اس سے فریاد بھی کر رہے ہیں۔ اس وقت غیب سے آواز آئی:

بندہ شدن از بندگان عبید بیاموز

(بندہ ہونے کو عبید کے بندوں سے سیکھو)۔ یعنی تم خدا کا بندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہو اور جب خدا کی طرف سے معمولی تکلیف پہنچی تو شکایت کرنے لگے۔ عبید کے بندے اس سے بڑی تکلیف اٹھا رہے ہیں، پھر بھی وہ شکایت کے بجائے اسی کو پکار رہے ہیں۔ وہ اسی کی طرف اپنی توجہ لگائے ہوئے ہیں۔ یہ اگرچہ ایک لطیفہ ہے، مگر اس میں منصوبہ تخلیق کا ایک بڑا سبق چھپا ہوا ہے۔ 28 اپریل 1986 ٹائمس آف انڈیا (28 اپریل 1986) صفحہ 8 پر ایک خبر حسب ذیل سرخی کے ساتھ چھپی ہے: "USSR had alerted Libya against the raid."

یہ خبر جس کی ڈیٹ لائن قاہرہ کی ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن نے لیبیا پر اپنے حملہ (15 اپریل 1986) سے ایک گھنٹہ پہلے سوویت یونین کو باخبر کر دیا تھا۔ سوویت یونین نے فوراً اس کی اطلاع کرنل قذافی کو کر دی۔ یہی پیشگی اطلاع تھی جس کی بنا پر امریکہ کا حملہ ناکام ہو گیا۔ خبر میں امریکی حملہ کو "Biggest American Mistake" کہا گیا ہے۔ پیشگی اطلاع پا کر کرنل قذافی نے فوراً دو اقدامات کیے ۔ انہوں نے اپنے جنگی جہازوں کو پڑوسی ملک سوڈان میں بھیج دیا۔ اور خود اپنی رہائش گاہ عزیز یہ کیمپ سے منتقل ہو کر دوسری جگہ چلے گئے۔ اس طرح کرنل قذافی خود بھی حملہ سے محفوظ رہے اور ان کے روسی ساخت کے جنگی جہاز بھی۔ یہ انکشاف مسٹر صلاح منتصر نے کیا ہے جو اکتوبر میگزین (قاہرہ) کے ایڈیٹر ہیں۔ یہ خبر اگر صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کو اس کی ترقیوں نے ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page