بندہ شدن از بندگان عبید بیاموز
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۴۴
(over confidence) میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی ہمیشہ آدمی کے لیے الٹی پڑتی ہے۔ خواہ وہ امریکہ جیسی سپر پاور کیوں نہ ہو۔
موجودہ زمانہ میں مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو صرف ایک ہی بات بتائی ہے۔ اور وہ ہے— اپنے مسائل کے لیے دوسروں سے لڑنا۔ جو مسئلہ اپنی کمزوری کی وجہ سے پیدا ہو اس کو دوسروں کے اوپر ڈالنا۔ شاہ بانو بیگم کا کیس (1985ء) کے سلسلے میں تمام مسلم لیڈروں نے متحدہ طور پر سپریم کورٹ اور حکومت کے خلاف پر شور مہم چلائی۔ یہ میرے نزدیک قوم کے ساتھ غداری ہے۔ کیونکہ اس سے مذکورہ ذہن مزید پختہ ہو جاتا ہے۔
اس کو ایک تقابلی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) میں ہمارے مکان کے سامنے ایک ہندو بیوہ عورت ہے۔ وہ گھروں کے دھلے ہوئے کپڑے پریس کرتی ہے۔ معلوم ہوا کہ اس کام سے وہ روزانہ 60-70 روپے کما لیتی ہے۔ یعنی تقریباً دو ہزار روپے مہینہ۔ اس کے مقابلہ میں شاہ بانو بیگم کو لیجیے۔ وہ سات برس تک مقدمہ لڑتی رہی۔ اس کے بعد عدالت نے اس کو 180 روپے ماہوار دیے جانے کا فیصلہ کیا۔ اب غور کیجیے کہ دونوں میں سے کون زیادہ فائدہ میں ہے۔ شاہ بانو بیگم کے اندر اگر تعمیری مزاج ہوتا تو وہ کسی مفید کام میں مشغول ہو کر زیادہ نفع حاصل کر سکتی تھی۔ مگر اس کو اس کے معاشرے نے صرف لڑائی جھگڑے کا ذہن دیا تھا۔ چنانچہ وہ شوہر سے علیحدگی کے بعد اس سے مسلسل لڑتی رہی اور بالآخر اس کے حصے میں نقصان کے سوا اور کچھ نہ آیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 125 نہیں ہے۔ جس کے خلاف ہمارے تمام اکابر جہاد کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔ بلکہ لڑائی بھڑائی کا وہ ذہن ہے جس کے سب سے زیادہ ذمہ دار خود ہمارے یہی لیڈر ہیں۔ مسلم لیڈروں کا حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر تعمیری مزاج پیدا کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ البتہ حکومت کے خلاف مہم چلانے کا کوئی شوشہ انہیں ہاتھ آ جائے تو اس پر خوب جوش دکھاتے ہیں۔ ان کی یہی سیاست ہے جس نے مسلمانوں کے اندر اس سرے سے اُس سرے تک تخریبی مزاج (destructive behaviour) پیدا کر دیا ہے۔ مسلمان اس قابل ہی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues