Al-Risala · March 2024 · page 8

تواضع کی صفت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۸

تواضع کی صفت

تواضع ایک اہم ایمانی صفت ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی خود پسندی نہ کرے ۔ کیوں کہ خود پسندی خدا کے بجائے اپنے آپ کو بڑائی کا مقام دینا ہے۔ اس کے بجائے وہ خدا پرستی ، تواضع ، وغیرہ کو اپنا شیوہ بنائے۔ ایسا کرنا ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے ایمان میں سنجیدہ ہے، اور ایسا نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان میں سنجیدہ نہیں۔

عملی طور پر بھی اسلام تواضع کی تعلیم دیتا ہے۔ مثلاً نماز اسلام کا ایک رکن ہے۔ نماز میں جو کلمہ سب سے زیادہ دہرایا جاتا ہے، وہ ہے اللہ اکبر۔ اذان اور نماز دونوں کو ملا کر روزانہ تقریباً تین سو بار یہ کلمہ دہرایا جاتا ہے۔ اللہ اکبر (اللہ بڑا ہے) کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ میں بڑا نہیں ہوں۔ اس طرح نماز، انسان کو تواضع (modesty) کے لیے تیار کرتی ہے، اور بلاشبہ تواضع موجودہ دنیا میں سب سے زیادہ قابل قدر انسانی صفت ہے۔ فرض نمازیں مسجد میں باجماعت پڑھی جاتی ہیں۔ باجماعت نماز میں یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کو بطور امام آگے کھڑا کر کے سب لوگ اس کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح نماز یہ سبق دیتی ہے کہ ایک انسان کو آگے کر کے سب لوگ پیچھے کی سیٹ (back seat) پر چلے جائیں۔ یہ طریقہ بلاشبہ تواضع کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ نماز کا خاتمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ، پر ہوتا ہے، یعنی تمام انسانوں کے لیے امن کی اسپرٹ لے کر مسجد کے باہر جانا۔ گویا کہ نماز ایک طرف تواضع کی صفت پیدا کرتی ہے اور دوسری طرف امن پسندی کی صفت ۔ یہ صرف نماز کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر موڑ پر تواضع اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

تواضع کی صفت بلاشبہ موجودہ دنیا میں بہتر سماج بنانے کا سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ ہے۔ زمین کے اوپر شکر، صبر، تواضع اور قناعت کے ساتھ رہنا زمین کی اصلاح ہے۔ اس کے برعکس، ناشکری، بے صبری، گھمنڈ اور حرص کے ساتھ رہنا زمین میں فساد برپا کرنا ہے۔ کیوں کہ اس سے خدا کا قائم کیا ہوا فطری نظام ٹوٹتا ہے۔ یہ اللہ کی قائم کردہ حدود سے نکل جانا ہے۔ جب کہ اللہ چاہتا ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد اس کی متعین کی ہوئی حدود کے اندر رہ کر زندگی گزارے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page