سوال کی کثرت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۹
سوال کی کثرت
صحابی رسول وابصہ بن معبد الاسدی کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں آیا ہے۔ وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ وہ آپ سے نیکی اور بدی کے تمام سوالات پوچھنا چاہتے تھے (لَا أَدْعُ شَيْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالإِثْمِ إِلاَّ سَأَلْتُهُ عَنْهُ) - رسول اللہ نے ان کے سوالات کا جواب نہیں دیا، بلکہ یہ کہا اپنے دل سے فتویٰ پوچھو، اور اپنے آپ سے فتویٰ پوچھو (یہ بات آپ نے تین بار کہی، اس کے بعد کہا) نیکی وہ ہے جس پر تمھارا دل مطمئن ہو، اور بدی وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے، اور تمھارے دل میں تردد پیدا ہو، خواہ لوگ اس کے بارے میں تمہیں کوئی بھی فتویٰ دیں۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 18006) یہ صرف ایک صحابی کا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس میں تمام اہل ایمان کے لیے رہنمائی ہے۔ رسول اللہ نے سوال کا جواب کیوں نہیں دیا۔ کیوں کہ بہت زیادہ سوال آدمی کو ڈسٹریکشن کی طرف لے جاتا ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے ان کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے ان کو تدبر و تفکر پر ابھارا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر آدمی ہر معاملے میں اپنا مفتی خود بن جائے ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسئلے کو شرعی مسئلہ نہ بناؤ۔ کھلی ممنوعات کے سوا جو چیزیں ہیں ، ان میں کامن سنْس (common sense) پر عمل کرو۔
سوال یہ ہے کہ کنفیوژن کسی کو کیوں ہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں کا دماغ زیادہ تر معلومات کا جنگل ہوتا ہے۔ وہ ایسا نہیں کر پاتے کہ تحلیل و تجزیہ (analysis) کر کے مختلف معلومات سے درست نتیجہ نکال سکیں ۔ یعنی وہ متعلق اور غیر متعلق کا فرق سمجھیں۔ وہ بنیادی اور غیر بنیادی میں تمیز کر سکیں اور پھر مختلف معلومات کو ہضم کر کے صحیح نتیجہ نکالیں۔ اسی ناکامی کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کا معلوماتی ذخیرہ ان کو صرف کنفیوژن تک پہنچاتا ہے، وہ انہیں فکری پختگی عطا نہیں کرتا۔ اسلام میں سوال سے زیادہ تدبر اور تفکر پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت خضر کے ساتھ پیغمبر موسیٰ جب سفر پر روانہ ہوئے تو حضرت خضر نے اُن سے کہا : فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ (18:70)۔ یعنی تم مجھ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues