سوال کی کثرت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۱۰
سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرنا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال نہ کرو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں کوئی سوال آئے تو پہلے غور وفکر کرو۔ غور وفکر کر کے آدمی پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرتا ہے۔ سوال کا جواب وہی شخص درست طور پر سمجھتا ہے، جو پہلے سے اپنے آپ کو ایک تیار (prepared mind) بنا چکا ہو۔
اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں : يَنْهٰى عَنْ ... كَثْرَةِ السُّؤَال (مسند احمد، حدیث نمبر 18232)۔ یعنی رسول اللہ نے زیادہ سوال کرنے سے منع کرتے تھے۔ سوال کی کثرت سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال کرنا حرام ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پہلے خود سوال کے تقاضے کو پورا کرے، اس کے بعد وہ سوال کرے ۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے سوال کرنے سے پہلے آدمی خود غور وفکر کرے ۔ اس طرح اس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) کا فائدہ حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیت پیدا کی ہے ۔ یہ صلاحیت غور وفکر سے بڑھتی ہے۔ اپنے ذہن کو ترقی دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطالعہ اور غور وفکر کے ذریعہ اپنے ذہن کو تیار کرتا رہے ۔ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ اخذ (grasp) کی صلاحیت پیدا کرے ۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ کوئی شخص اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کر سکے۔ حقیقی سوال کرنے والا وہ ہے جو جواب کو سن کر اس میں اپنی طرف سے اضافہ کر سکتا ہو۔ مذکورہ حدیث کا مطلب اگر لفظ بدل کر بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا — سوال کیوں کرتے ہو، اگر تمھارے ذہن میں کوئی سوال آیا ہے تو پہلے خود اپنے ذہن کو استعمال کر کے اس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرو۔ سوال کو صرف سوال نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بناؤ۔ کسی بات کو سن کر فوراً سوال کرنا، عجلت پسندی کی علامت ہے ۔ کسی بات کو سن کر پہلے غور و فکر کرنا چاہیے۔ اگر غور وفکر سے وہ بات کی تہہ تک نہ پہنچے تو سمجھنا چاہیے کہ اس نے اپنے ذہن کو تیار کرنے میں کمی کی ہے۔ لہٰذا اس کو سب سے پہلے اپنے ذہنی ارتقا پر مزید توجہ دینی چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues