Al-Risala · March 2024 · page 11

سوال کی کثرت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۱۱

مقدمہ مطالعهٔ حديثترجمہ و تشریح مشکوۃ المصابیح قرآن کے بعد اسلام کی تعلیمات کو جاننے کا دوسرا مستند ماخذ حدیث ہے۔ صحاح ستہ اور حدیث کی جو دوسری بنیادی کتابیں ہیں وہ زیادہ ترفنی انداز میں لکھی گئی ہیں۔ ان سے استفادہ کرنا انہی لوگوں کے لیے آسان ہے جو عالم ہوں۔ چنانچہ محدثین نے ان کتابوں سے اخذ کر کے عام لوگوں کے استعمال کے لیے بہت سے مجموعے تیار کیے ہیں۔ ان مجموعوں کو انتخاب حدیث یا حدیث کے منتخبات کا نام دیا جا سکتا ہے۔

ان منتخب کتب حدیث میں غالباً سب سے زیادہ مقبولیت مشکوۃ المصابیح کو حاصل ہوئی۔ عمومی استعمال کے لیے بلاشبہ یہ ایک نہایت موزوں کتاب ہے۔ اسی لیے ہم نے مشکوۃ المصابیح کو زیر نظر کتاب کے لیے بطور بنیاد اختیار کیا ہے۔

مشہور مفسر اور محدث ابو محمد الحسین بن مسعود الفراء البغوی (وفات 516ھ) نے منتخب احادیث پر مشتمل ایک کتاب تیار کی تھی جس کا نام انہوں نے مصابیح السنۃ رکھا۔ یہ کتاب نسبتاً مختصر تھی اور اس میں بعض دوسری فنی کمیاں موجود تھیں۔ مثلاً اس میں احادیث کی تخریج نہیں کی گئی تھی۔ مشکوۃ المصابیح نامی کتاب البغوی کی کتاب مصابیح السنۃ کا اضافہ شدہ ایڈیشن ہے۔ موجودہ مشکوۃ المصابیح میں البغوی کی کتاب کے مقابلہ میں 1511 حدیثیں زیادہ ہیں۔

صاحب مشکوۃ کا پورا نام ولی الدین، ابو عبد اللہ، محمد بن عبد اللہ الخطیب العمری التبریزی ہے۔ انہوں نے البغوی کی کتاب مصابیح السنۃ میں اضافہ اور تحقیق و تخریج کا کام کیا۔ اس بنا پر یہ کتاب بہت زیادہ مقبول ہوئی۔ مشکوۃ المصابیح کے مؤلف کا سال ولادت متعین طور پر معلوم نہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب کی تکمیل پر اس کے آخر میں 737ھ تحریر کیا تھا۔ اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ 737ھ کے بعد کسی قریبی سال میں ان کی وفات ہوئی۔ تاریخ الحدیث میں ہے کہ آپ نے غالباً 740ھ میں وفات پائی (صفحہ نمبر 111)۔

مشکوۃ المصابیح کی شرح و ترتیب پر بہت سے علماء نے کام کیا ہے۔ آخر میں دور جدید کے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page