سوال کی کثرت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۱۲
مشہور محدث محمد ناصر الدین الالبانی (وفات 1999) نے ایک اہم کام انجام دیا۔ انھوں نے اپنے بعض رفقاء کی مدد سے مشکوٰۃ المصابیح کو از سر نو تحقیق اور ایڈٹ کیا۔ اس پر ضروری حاشیے لکھے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے مشکوٰۃ المصابیح میں وارد تمام حدیثوں کے سلسلہ وار نمبر قائم کیے۔ اس کے مطابق اس کتاب میں حدیثوں کی کل تعداد 6285 ہے۔
زیر نظر کتاب مطالعہ حدیث میں ہم نے مشکوٰۃ المصابیح کی منتخب حدیثوں کو لیا ہے ۔ اور زیر تشریح حدیث کے اوپر اس کا وہ نمبر درج کیا جا رہا ہے جو شیخ ناصر الدین الالبانی کے نسخہ میں موجود ہے۔ اس طرح جو شخص کسی حدیث کو اصل کتاب میں دیکھنا چاہے ۔ وہ نمبر کی مدد سے فوراً اس میں اس کو دیکھ سکتا ہے۔ ہمارے سامنے مشکوٰۃ المصابیح کے اس ایڈیشن کا وہ نسخہ ہے جو 1985ء (1405ھ) میں المکتب الاسلامی، بیروت سے تین جلدوں میں چھپا ہے۔
ہر حدیث کے ساتھ اس کی شرح بھی درج کی جا رہی ہے۔ تاہم یہ شرح آسان اسلوب اور غیر فنی انداز میں ہے۔ ہماری شرح کا مقصد صرف یہ ہے کہ حدیث کو عام انسانوں کے لیے قابل فہم بنایا جائے اور اس کے نصیحت والے پہلو کو نمایاں کیا جائے۔
مولانا انور شاہ کشمیری نے اپنی کتاب مشکلات القرآن میں کہا ہے کہ حدیث کی خدمت کا حق حافظ ابن حجر العسقلانی نے فتح الباری لکھ کر ادا کر دیا ہے (ماہنامہ الفرقان، اپریل 2004، صفحہ 9)۔ عام طور پر علما کا یہ خیال ہے کہ فتح الباری حدیث کی شرح کے موضوع پر ایک مکمل کتاب ہے۔ مگر یہ بات نصف صداقت ہے۔ جہاں تک حدیث کی فنی تشریح کا تعلق ہے، بلاشبہ صحیح البخاری کی شرح فتح الباری کو ایک مکمل کتاب کہا جاسکتا ہے جو تیرہ جلدوں پر مشتمل ہے۔ مگر حدیث کی تشریح کا ایک اور پہلو ہے۔ اس کو حدیث کی حکیمانہ تشریح کہا جاسکتا ہے۔ اس دوسرے پہلو سے ذخیرہ احادیث کی تشریح کا کام ابھی تک باقی ہے۔ زیر نظر کتاب میں علم حدیث کی اس کمی کو سادہ اور مختصر انداز میں پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مطالعہ حدیث کی ترتیب کا یہ کام اللہ کی توفیق سے 28 مارچ 2000 کو شروع کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مجموعہ کو لوگوں کے لیے مفید بنائے اور حدیث رسول سے تعلق میں مددگار ثابت ہو۔
نئی دہلی وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues