سوال کی کثرت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۱۳
مطالعہ حدیث شرح مشکوۃ المصابیح (حدیث نمبر 123-110)
مطر بن عکام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کسی بندے کے لیے فیصلہ کرتا ہے کہ فلاں مقام پر اس کی موت ہو تو اس مقام پر وہ اس کے لیے کوئی ضرورت رکھ دیتا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر 21983؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2146)۔ تشریح: خدا اپنی مصلحتوں کے تحت ہر مرد اور عورت کے لیے یہ فیصلہ فرماتا ہے کہ اس کو کتنے دن تک موجودہ دنیا میں رہنا ہے اور کس مقام پر اس کی وفات ہونے والی ہے۔ جب کسی کا وقت آتا ہے تو اس کے لیے ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ وہ زمین کے اسی مقام پر پہنچ جائے جہاں اس کی موت مقدر تھی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کو خالق نے ایک مقصد کے تحت پیدا کیا ہے، اور وہ ہر لمحہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خالق کے اس منصوبہ تخلیق کو جانے اور زندگی کی منصوبہ بندی میں آخری حد تک اس کی رعایت کرے، جس طرح وہ دنیا کے سفر میں منصوبہ بندی (planning) کا اہتمام کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہر طرح غفلت کا شکار ہونے سے بچائے ۔ جنت کسی انسان کو اسی عمل کی بنیاد پر ملے گی جو خالق کے منصوبہ تخلیق کے مطابق ہو، نہ کہ کسی خود ساختہ عمل یا خوش فہمیوں کی بنیاد پر۔
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اے خدا کے رسول مومنوں کی اولاد کا کیا حکم ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے باپوں کے تابع ہیں۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا کسی عمل کے بغیر۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے۔ پھر میں نے کہا کہ مشرکین کی اولاد کا کیا حکم
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues