Al-Risala · March 2024 · page 14

سوال کی کثرت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۱۴

ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے باپوں کے تابع ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا کسی عمل کے بغیر ۔ آپ نے فرمایا اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے ۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4712) تشریح: اس حدیث میں مذکورہ مسئلہ کا عمومی حکم بتایا گیا ہے۔ نابالغ بچوں کے بارے میں درست بات وہ ہے، جو ابن عبدالبر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان کی ہے۔ حضرت عائشہ کے مطابق، حضرت خدیجہ نے مشرکین کی اولاد کے تعلق سے پوچھا تو آپ نے کہا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوں گے، پھر اس کے بعد ان سے پوچھا گیا تو آپ نے کہا کہ اللہ تعالی خوب جانتا ہے है کہ وہ کیا کرنے والے تھے، پھر اس کے بعد پوچھا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى (6: 164) - یعنی، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ چنانچہ آپ نے کہا کہ وہ فطرت پر ہیں، تو وہ جنت میں ہوں گے (هُمْ عَلَى الْفِطْرَةِ وَهُمْ فِي الْجَنَّةِ ) ۔ الاستذكار لابن عبدالبر، جلد 3، صفحہ 113۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جنت میں دیکھا، آپ نے دیکھا کہ ان کے اردگرد بہت بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے بچے موجود ہیں۔ ان کے بارے میں آپ نے کہا: وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ فَكُلٌّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ، قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1386؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2275)۔ یعنی یہ وہ بچے ہیں، جن کا انتقال فطرت پر ہوا ہے۔ تو کچھ مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ، مشرکین کی اولاد بھی ان میں ہیں۔ آپ نے کہا: ہاں، مشرکین کی اولاد بھی۔ امام النووی نے کہا ہے کہ دنیا میں مشرکین اور منکرین کی اولاد کا حکم وہی ہے جو ان کے والدین کا حکم ہے (أَنَّ أَوْلَادَ الْكُفَّارِ حُكْمُهُمْ فِي الدُّنْيَا حُكْمُ آبَائِهِمْ) ، لیکن آخرت کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ اگر وہ بالغ ہونے سے پہلے انتقال کر جائیں تو جنت میں ہوں گے۔ (شرح صحیح مسلم، جلد 12 ، صفحہ 50)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page