Al-Risala · March 2024 · page 15

سوال کی کثرت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۱۵

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ گاڑنے والی اور زندہ گاڑی ہوئی دوزخ میں ہیں۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4717) تشریح: اس حدیث کی وضاحت قرآن کی دو آیتوں کو ملا کر پڑھنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ وہ آیت یہ ہے : وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ۔ بِأَيُّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ (9-81)، یعنی، اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی۔

اسلام کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک شخص کے عمل کی سزا دوسرے شخص کو نہیں دی جاسکتی ۔ اللہ تعالیٰ کسی کا فیصلہ اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر کرے گا۔ اس لیے بظاہر یہ ناقابل قیاس ہے کہ گاڑی جانے والی بے قصور بچی کو گاڑنے والے (خواہ مرد یا عورت) کے جرم میں شامل کیا جائے ۔ غالباً یہاں کلام کا رخ گاڑنےوالےكي طرف ہے، مگر شدت غضب کی بنا پر کلام کا مذکورہ انداز اختیار کیا گیا۔

ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اپنی مخلوق میں ہر بندہ کے متعلق پانچ چیزوں سے فارغ ہو چکا ہے ۔ اس کی موت سے اور اس کے عمل سے اور اس کے ٹھکانے سے اور اس کے نشان قدم سے اور اس کے رزق سے۔

( مسند احمد، حدیث نمبر 21722)

تشریح : اس حدیث میں جن پانچ چیزوں کا ذکر ہے ان کا تعلق دراصل ان امتحانی پرچوں سے ہے جن میں ہر آدمی کا امتحان لیا جانا مقدر ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس بحث میں نہ پڑے کہ اس کو کون سا پرچہ ملا اور کون سا نہیں ملا۔ اس کو چاہیے کہ وہ اپنا پورا دھیان صرف اس پہلو پر لگائے کہ جو امتحانی پرچے اس کے لیے مقدر کیے گئے ہیں ان کو وہ کامیابی کے ساتھ حل کر سکے ۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز یہ نہیں ہے کہ آدمی مادی ساز و سامان اپنے گرد اکٹھا کرلے۔ یہاں کامیابی کا راز یہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page