Al-Risala · March 2024 · page 16

سوال کی کثرت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۱۶

ہے کہ آدمی کو امتحان کا جو پرچہ دیا گیا ہے اس پرچے کو حل کرنے میں وہ کامیاب ہو جائے۔ "نشان قدم "یعنی دنیا میں کس کس جگہ انسان اپنا قدم رکھے گا۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: جو آدمی تقدیر میں کسی چیز پر بحث کرے گا اس کے بارے میں اس سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ اور جو تقدیر کے معاملے میں بحث نہیں کرے گا اس سے اس کی بابت سوال نہیں ہوگا۔ (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 83)

تشریح: انسان اپنی محدودیت کی بنا پر تقدیر کے معاملے میں حتمی رائے نہیں قائم کر سکتا۔ ایسی حالت میں جو آدمی خوض سے بچے اور اجمالی علم پر قناعت کرے تو وہ آخرت کی پکڑ سے بچ گیا۔ اور جو آدمی اس معاملے میں خوض اور بحث کر کے حتمی رائے تک پہنچنا چاہے وہ دنیا میں ذہنی پراگندگی میں مبتلا ہوگا اور آخرت میں اس جرم میں پکڑا جائے گا کہ اس نے اپنی فطری محدودیت کا اعتراف نہیں کیا اور بے فائدہ طور پر ایسی بحثوں میں پڑا جن کا جواب معلوم کرنا اس کے لیے ممکن ہی نہ تھا۔ ابن الدیلمی (تابعی) کہتے ہیں کہ میں ابی ابن کعب کے پاس گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شک پیدا ہوگیا ہے۔ پس آپ مجھے کوئی بات بتائیں۔ شاید اللہ اس کو میرے دل سے نکال دے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالی اپنے آسمان کے لوگوں کو اور اپنی زمین کے لوگوں کو عذاب دے تو وہ اس عذاب پر ان کے حق میں ظالم نہ ہوگا اور اگر وہ ان پر رحم فرمادے تو اس کی رحمت یقیناً ان کے اعمال سے بہتر ہے۔ اور اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کرو تو اللہ تم سے اس صدقہ کو قبول نہیں کرے گا، یہاں تک کہ تم تقدیر پر ایمان لاؤ اور تم یہ جانو کہ جو تمہیں پہنچا وہ تم سے رک نہیں سکتا تھا اور جو تم سے رک گیا وہ تم کو پہنچ نہ سکتا تھا اور اگر تم اس کے سوا کسی اور چیز پر مرے تو دوزخ میں جاؤ گے۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page