سوال کی کثرت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۱۷
عبداللہ بن مسعود کے پاس گیا تو انھوں نے بھی ایسی ہی بات کہی۔ پھر حذیفہ بن الیمان کے پاس گیا تو انھوں نے بھی ایسی ہی بات کہی۔ پھر میں زید بن ثابت کے پاس گیا تو انھوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 21589؛ سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4699؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 77)
تشریح: اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ بندوں کی نسبت سے ہے۔ بندوں کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کا مکمل اعتراف کریں کہ ان کا رب قادر مطلق ہے۔ انسان کو اس کے رب کی طرف سے اتنی زیادہ نعمتیں ملی ہوئی ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ اس کا حق بندوں کے اوپر اتنا زیادہ ہے کہ وہ بندوں کے ساتھ جو معاملہ بھی کرے وہ اس کی طرف سے ظلم نہ ہوگا۔ اس قسم کا عقیدہ ایمان باللہ کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ تاہم جہاں تک خدا کا تعلق ہے، اس کی شان کمال کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ اس نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب کے اوپر غالب رہے گی: وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (7:156)۔ اس لیے اگر کسی نے غلط عمل نہ کیا ہو تو وہ اس کو ناحق نہیں پکڑے گا۔ نافع تابعی کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ ابن عمر کے پاس آیا۔ پھر اس نے کہا کہ فلاں شخص نے آپ کو سلام کہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس نے دین میں نئی بات نکالی ہے۔ پس اگر اس نے دین میں نئی بات نکالی ہے تو میری طرف سے اس کو سلام نہ پہنچانا۔ کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ـــ یا یہ کہ ـــ اس امت میں خسف (دھنس جانا) اور مسخ (چہرہ بگڑ جانا) اور قذف (پتھر برسنا) ہوگا تو وہ اہل قدر پر ہوگا۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1252؛ سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4613؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4061)
تشریح: مذکورہ صحابی نے جو بات کہی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں سے سلام و کلام نہ کیا جائے۔ صحابی کا قول ہیمرنگ (hammering) کے انداز میں اظہارِ بے زاری کے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues