سوال کی کثرت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۱۸
ہے، نہ کہ سلام کا مسئلہ بتانے کے لیے۔ تقدیر کے معاملے میں مجمل ایمان کا حکم دیا گیا ہے۔ جو شخص اس معاملے میں مجمل علم پر نہ رہے بلکہ اس معاملے میں گلی علم تک پہنچنے کے لیے غیر ضروری بحث و مباحثہ میں پڑے، وہ نہ صرف لوگوں کے درمیان کنفیوزن پھیلانے کا جرم کر رہا ہے، بلکہ وہ بدعت کا فعل بھی کر رہا ہے اور بدعت اسلام میں بہت بڑا جرم ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا تو اس نے ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا۔ پھر ان کی پشت سے وہ تمام جانیں باہر نکل آئیں جن کو اللہ ان کی نسل سے قیامت تک پیدا کرنے والا تھا۔ پھر اللہ نے ان میں سے ہر انسان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک چمک رکھی۔ پھر ان سب کو آدم کے سامنے پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ اے میرے رب یہ کون لوگ ہیں۔ فرمایا کہ تمہاری اولاد۔ آدم نے ان میں سے ایک کو دیکھا تو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک ان کو بہت اچھی لگی۔ انھوں نے کہا کہ میرے رب یہ کون ہے۔ فرمایا کہ داؤد۔ انھوں نے کہا کہ اے میرے رب، تو نے اس کی عمر کتنی رکھی ہے۔ فرمایا کہ ساٹھ سال۔ انھوں نے کہا کہ میری عمر سے چالیس سال لے کر اس کی عمر میں اضافہ کردے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدم کی عمر میں چالیس سال رہ گئے تو موت کا فرشتہ ان کے پاس آیا۔ آدم نے کہا کہ کیا میری عمر پوری ہونے میں چالیس سال باقی نہیں ہیں۔ فرشتہ نے کہا کہ کیا آپ نے اپنی عمر کے چالیس سال اپنے بیٹے داؤد کو نہیں دے دیے تھے۔ لیکن آدم نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے، آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھولتی ہے۔ آدم نے خطا کی تو ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3076) تشریح: اس حدیث جس واقعہ کا ذکر ہے اس کا تعلق بظاہر غیبی امور سے ہے۔ لیکن اس واقعہ کے ریفرنس میں انسان کی فطری کمزوریوں کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً بھولنا، غلطی کرنا، وغیرہ۔ انسان ان فطری کمزوریوں پر قابو نہیں پا سکتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے یہ دروازہ بھی کھول دیا ہے کہ جب بھی اس سے کوئی غلطی یا بھول چوک ہو جائے، اور اس کو اس بات کا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues